اسلام آباد: خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو الگ کارروائیوں میں مجموعی طور پر سات مشتبہ شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ جیو نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک کارروائی خیبرپختونخوا کے باڑہ علاقے میں جبکہ دوسری بلوچستان کے ضلع چاغی کے نوکچہ علاقے میں کی گئی۔ واقعے کی تفصیلات بنیادی طور پر سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں اور رپورٹ میں ہلاک افراد کی آزادانہ شناخت یا ان کے مبینہ روابط کی الگ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق باڑہ میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران پانچ مشتبہ شدت پسند مارے گئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے نتیجے میں مبینہ جنگجوؤں کے ٹھکانے تباہ ہوئے۔ پاکستانی حکام بعض مسلح گروہوں کے لیے سرکاری اصطلاحات استعمال کرتے ہیں؛ جیو کی رپورٹ میں بھی انہی سرکاری اصطلاحات اور بیرونی سرپرستی کے دعوؤں کو سکیورٹی ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں پر کسی دوسرے فریق کا فوری مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں نوکچہ کے مقام پر پیش آنے والے دوسرے واقعے کے بارے میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دو مشتبہ شدت پسند اس وقت مارے گئے جب فورسز نے ایک واقعے کے بعد کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایک خالی واٹر باؤزر کو آگ لگائی گئی تھی اور مشتبہ افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ انہی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ افراد این-40 شاہراہ کے مختلف مقامات پر آتش زنی کی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے تھے۔
رپورٹ میں سکیورٹی ذرائع نے بلوچستان میں اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ پاکستان کے مغربی صوبوں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی اور سکیورٹی واقعات میں اضافہ حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اسلام آباد بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ کابل کی جانب سے مختلف مواقع پر پاکستانی الزامات کی تردید یا ان پر اختلاف بھی سامنے آتا رہا ہے۔
29 ستمبر کی ان دونوں کارروائیوں سے متعلق دستیاب خبر میں کسی عدالتی کارروائی، گرفتار ملزم کے بیان یا ہلاک افراد کے اہل خانہ یا متعلقہ گروہوں کا مؤقف شامل نہیں تھا۔ اسی لیے ان کے مبینہ تنظیمی یا بیرونی روابط سے متعلق دعوے سکیورٹی ذرائع ہی سے منسوب رکھے جا رہے ہیں۔

