اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ، MDCAT 2026، سے متعلق شکایات پر نئی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے وزارت صحت کو ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو حالیہ امتحان کا سوالیہ پرچہ تین دن کے اندر عوامی سطح پر جاری کرنے کا بھی کہا ہے۔
سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں MDCAT کے انعقاد، سوالات اور امیدواروں کی شکایات سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پہلے سے سامنے آنے والے اعتراضات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور وزارت صحت تازہ انکوائری کے ذریعے حقائق واضح کرے۔ انکوائری کا حکم شکایات کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے، لیکن یہ بذات خود کسی بے ضابطگی یا بدعنوانی کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ حتمی نتیجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔
کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کو امتحانی شفافیت بڑھانے کے لیے حالیہ MDCAT کا سوالیہ پرچہ تین دن میں شائع کرنے اور امتحان سے متعلق قائم ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی بھی ہدایت کی۔ سوالیہ پرچے کو عوامی کرنے سے امیدواروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں کو سوالات کے معیار اور اٹھائے گئے اعتراضات کا زیادہ واضح جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔
اسی اجلاس میں کمیٹی نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن (ترمیمی) بل 2026 کی بھی متفقہ منظوری دی۔ یہ قانون سازی الگ پارلیمانی عمل کا حصہ ہے اور اسے MDCAT انکوائری کے نتائج سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمانی طریقہ کار کے اگلے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔
MDCAT ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے اہم امتحان ہے اور اس کے نتائج بڑی تعداد میں امیدواروں کے تعلیمی مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے امتحانی شفافیت، سوالات کی صحت اور شکایات کے بروقت ازالے کی اہمیت زیادہ ہے۔ اب وزارت صحت کی نئی انکوائری اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے سوالیہ پرچہ جاری کیے جانے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کمیٹی کے سامنے اٹھائے گئے اعتراضات میں سے کون سے حقائق سے ثابت ہوتے ہیں اور کن پر مزید کارروائی درکار ہے۔

