اسلام آباد: پاکستان کے سینئر اسٹریٹجک ماہرین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن تبدیل کرنے کی کوششیں خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد قدوائی اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سرفراز ستار نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی کا اعادہ کیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق مقررین نے بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والی آبدوزوں کی تعیناتی، میزائل پروگرام کی جدید کاری اور حالیہ فوجی محاذ آرائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی پیش رفت دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان غلط اندازوں اور کشیدگی میں اضافے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ خالد قدوائی نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کسی یک طرفہ اسٹریٹجک برتری کو قبول نہیں کیا اور اپنی دفاعی صلاحیت کو بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق برقرار رکھے گا۔
سیمینار میں پاکستان کی جوہری حکمت عملی، روایتی اور غیر روایتی خطرات اور جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس کے مستقبل پر گفتگو کی گئی۔ پاکستانی ماہرین کا مؤقف تھا کہ اسٹریٹجک استحکام صرف ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ صلاحیت، تعیناتی، میزائل دفاع اور نئی ٹیکنالوجیز کے مجموعی اثر سے بھی جڑا ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں بھارت کی دفاعی جدید کاری کو پاکستان کی منصوبہ بندی کے لیے اہم عامل قرار دیا۔
رپورٹ میں پیش کیے گئے بیانات پاکستانی حکام اور سابق فوجی عہدیداروں کے اسٹریٹجک جائزے اور پالیسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے اس مخصوص سیمینار میں اٹھائے گئے نکات پر فوری ردعمل رپورٹ نہیں کیا گیا، اس لیے پاکستانی خدشات کو کسی باہمی طور پر تسلیم شدہ نتیجے کے بجائے ایک فریق کے سکیورٹی جائزے کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی کا مقصد، پاکستانی پالیسی سازوں کے مطابق، مختلف سطحوں پر ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے قابل اعتبار جوابی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ خطے میں بحران کے دوران رابطے، خطرات میں کمی اور اسٹریٹجک تحمل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کسی نئی عملی تعیناتی یا فوری فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا بلکہ موجودہ پالیسی اور بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول پر پاکستان کا نقطۂ نظر بیان کیا۔

