اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی متوفی کی آنکھوں کا کھلا یا بند ہونا اس بات کا حتمی قانونی ثبوت نہیں کہ موت کا واقعہ کسی نے دیکھا تھا یا نہیں۔ عدالت نے 2011 کے دوہرے قتل کے مقدمے میں سزا پانے والے عظمت اللہ عرف موٹو اور محمد لقمان عرف گونا کی جیل درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اس نکتے پر تفصیلی وضاحت کی۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلے میں کہا کہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کسی شخص پر میت کی آنکھیں بند کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔ عدالت کے مطابق آنکھیں بند کرنا مذہبی اور معاشرتی روایت ہے، لیکن اس روایت پر عمل نہ ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وقوعہ غیر مشاہدہ تھا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے پوسٹ مارٹم اور انکوائری رپورٹس میں دونوں مقتولین کی آنکھیں کھلی ہونے کا حوالہ دے کر مؤقف اختیار کیا تھا کہ قتل کا واقعہ عینی گواہوں کی موجودگی میں نہیں ہوا۔ عدالت نے کہا کہ انسانی ردعمل کو جامد مفروضوں کے ذریعے نہیں پرکھا جا سکتا۔ شدید تشدد یا صدمے کے موقع پر رشتہ دار فوری طبی امداد حاصل کرنے پر توجہ دے سکتے ہیں یا ڈاکٹر اور پولیس کی تصدیق تک زخمی شخص کو زندہ سمجھ سکتے ہیں۔

فیصلے میں فرانزک پہلو بھی بیان کیے گئے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ موت کے بعد پٹھوں کے ڈھیلا ہونے، جسم کو منتقل کرنے اور بعد میں rigor mortis کے عمل کے باعث پلکیں کھلی یا جزوی کھلی رہ سکتی ہیں۔ اسی طرح جائے وقوعہ کو آلودگی سے بچانے کے لیے رشتہ دار یا امدادی کارکن لاش کو چھونے سے گریز بھی کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نہ فرانزک لٹریچر اور نہ قانون بند آنکھوں کو مشاہدہ شدہ موت کی لازمی علامت تسلیم کرتا ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی سزائیں برقرار رکھیں؛ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر چکی تھی۔ یہ فیصلہ مخصوص مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور قانونی سوالات سے متعلق ہے اور ہر فوجداری مقدمہ اپنے ثبوت کی بنیاد پر طے ہوگا۔