اسلام آباد/پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف قانونی کارروائی وفاقی آئینی عدالت تک پہنچ گئی ہے۔ ڈان کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ محمد یوسف جاوید نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو جاری کیے گئے ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات کو چیلنج کیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے متعلقہ نوٹیفکیشن کے نفاذ کو معطل کرنے اور صوبے کے معاملات میں تقرریوں یا قانون سازی سے متعلق اقدامات روکنے کی استدعا کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق درخواست آئین کے آرٹیکل 175(E) کے تحت دائر کی گئی اور اس میں سابقہ صوبائی انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے بھی ریلیف مانگا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی، ان کی کابینہ اور صوبائی اسمبلی کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ یہ مؤقف فی الحال درخواست گزار کا قانونی دعویٰ ہے اور عدالت کی جانب سے اس کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

اسی معاملے پر پشاور ہائی کورٹ میں بھی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت کو بتایا کہ ان کی جماعت کے 26 قانون سازوں کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور دیگر ارکان کو ہراساں کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ یہ دعوے تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے ہیں اور رپورٹ میں انہیں عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کے اقدامات کے بعد صوبائی حکومت، اسمبلی اور سیاسی نمائندگی کی آئینی حیثیت پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ نئی درخواست میں بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اختیار کیا گیا آئینی طریقہ کار درست تھا یا نہیں، اور اس دوران صوبائی اداروں کے اختیارات کس حد تک محدود کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت اور پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کے باعث معاملہ اب عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہے۔ کسی بھی فریق کے سیاسی بیانات یا الزامات کو حتمی عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئندہ سماعتوں میں حکومتی جواب، متعلقہ نوٹیفکیشنز اور آئینی دفعات کی تشریح اس تنازع کے قانونی رخ کا تعین کرنے میں اہم ہوں گی۔