اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیتے ہوئے کاسمیٹکس کی مؤثر ضابطہ کاری، جعلی مصنوعات کے خلاف کارروائی اور ریگولیٹری اختیارات کے غلط استعمال سے بچاؤ کے لیے واضح قانونی طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت کمیٹی نے اس بل پر دوبارہ غور کیا، جسے سینیٹ نے 14 اکتوبر کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی ترامیم کے بعد نظرثانی کے لیے واپس بھیجا تھا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس کے دوران سلیم مانڈوی والا نے جعلی کاسمیٹکس کی بڑھتی ہوئی فروخت سے نمٹنے اور ریگولیٹری ڈھانچہ مضبوط کرنے کے لیے تبدیلیوں کی حمایت کی۔ صنعت کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ شعبہ تقریباً 15 سال سے کام کر رہا ہے لیکن معروف برانڈز کے نام سے جعلی مصنوعات فروخت ہونے کے باعث قانونی کاروبار اور صارفین دونوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مؤثر نفاذ اور مضبوط ضابطہ کاری صارفین کو غیر محفوظ مصنوعات سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے کاسمیٹکس کی ضابطہ کاری اور غیر محفوظ یا غیر معیاری مصنوعات سے متعلق صحت عامہ کے خطرات سے نمٹنے کی کوششوں پر بریفنگ دی۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا کہ قانون سازی کو نافذ کرنے سے پہلے تفصیلی جانچ ضروری ہے کیونکہ غیر عملی دفعات بعد میں نفاذ کے دوران مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
کمیٹی نے بل کی دفعہ 4 کے تحت مجوزہ بورڈ کی ساخت کا بھی جائزہ لیا۔ سلیم مانڈوی والا نے آٹھ رکنی بورڈ میں مزید دو ارکان، ایک سینیٹر اور درآمد کنندگان کے نمائندے، شامل کرنے کی تجویز دی تاکہ فیصلہ سازی میں زیادہ متعلقہ فریقوں کی نمائندگی ہو۔ ارکان نے دفعہ 10 میں ریگولیٹری تقاضوں، قواعد بنانے کے اختیار اور اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے خلاف حفاظتی شقوں پر بھی بحث کی۔
کمیٹی کا مؤقف تھا کہ مجوزہ قانون میں نفاذ کے طریقہ کار کو واضح، قابل عمل اور شفاف ہونا چاہیے، جبکہ قواعد کی تیاری اور رجسٹریشن کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ مزید قانونی جانچ کے لیے وزارت قانون و انصاف کو آئندہ اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مرحلے پر کمیٹی نے حتمی قانون منظور نہیں کیا؛ معاملہ پارلیمانی غور و خوض میں ہے اور مجوزہ ترامیم کی حتمی شکل مزید مشاورت کے بعد طے ہوگی۔

