لاہور: زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور نجی زرعی تحقیقی کمپنی گارڈ ایگریکلچر نے پاکستان میں ہائبرڈ گندم تیار کرنے اور اسے تجارتی سطح تک لے جانے کے لیے تین سالہ تحقیقی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور گارڈ ایگریکلچر کے چیف ایگزیکٹو شہزاد علی ملک نے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے، جبکہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر تقریب میں موجود تھے۔

معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیق، مختلف زرعی علاقوں میں فیلڈ ٹرائلز، بریڈنگ مواد کی جانچ اور ہائبرڈ گندم کی ممکنہ کمرشلائزیشن پر کام کریں گے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد جینیات، بریڈنگ اور ایگرانومی میں مہارت، بریڈنگ مواد تک رسائی اور لیبارٹری، گرین ہاؤس اور کھیت کی تحقیق کے لیے معاونت فراہم کرے گی۔ گارڈ ایگریکلچر مختلف مقامات پر آزمائش، تجارتی امکانات کے جائزے اور بیج کی پیداوار کی سہولیات میں تعاون کرے گی۔

کمپنی تحقیق کے لیے گرانٹس، پی ایچ ڈی معاونت، ماسٹرز فیلوشپس اور انٹرن شپس بھی فراہم کرے گی۔ دونوں ادارے محققین، تکنیکی عملے اور طلبہ کے لیے تربیتی پروگرام، ورکشاپس، فیلڈ مظاہرے اور تبادلے کے پروگرام منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مشترکہ تعاون سے پیدا ہونے والی دانشورانہ ملکیت، بریڈنگ مواد، ٹیکنالوجی اور تحقیقی نتائج دونوں فریقوں کی مشترکہ ملکیت ہوں گے۔

وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے ہدف ظاہر کیا کہ نئی بیج ٹیکنالوجی مناسب حالات میں فی ایکڑ پیداوار تقریباً 20 فیصد بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہتر زرعی طریقوں کے ساتھ گندم کی پیداوار 98 من فی ایکڑ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ پیداوار صرف بیج پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ فصل کے بہتر انتظام اور گڈ ایگریکلچرل پریکٹسز کی ضرورت بھی ہوگی۔ اس لیے 98 من فی ایکڑ کا عدد موجودہ ثابت شدہ قومی اوسط نہیں بلکہ مناسب حالات سے مشروط ایک تحقیقی و انتظامی ہدف ہے۔

گارڈ ایگریکلچر کے شہزاد علی ملک کے مطابق ہائبرڈ گندم کو تجارتی مرحلے تک پہنچانے میں مزید تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔ زرعی یونیورسٹی تقریباً 15 سال سے ایک آسٹریلوی یونیورسٹی کے تعاون سے ہائبرڈ گندم پر تحقیق کر رہی ہے۔ موجودہ معاہدہ فوری تجارتی فروخت یا حتمی پیداوار کی ضمانت نہیں دیتا؛ اس کا بنیادی مقصد تحقیق، آزمائش اور تجارتی امکانات کی جانچ کے لیے یونیورسٹی اور صنعت کے درمیان باقاعدہ تعاون قائم کرنا ہے۔