گلگت: گلگت بلتستان کابینہ نے سکردو کیڈٹ کالج کے لیے 22 کروڑ روپے کی گرانٹ سمیت ترقی، عوامی فلاح، تعلیم، صحت، زراعت، معدنیات اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ ایڈووکیٹ امجد حسین کی زیر صدارت اجلاس میں یکم مارچ 2026 کے واقعات کے دوران سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے 27 کروڑ 11 لاکھ روپے کی ادائیگی اور ضلع غذر کے تالی داس میں سیلاب متاثرین کو متبادل زمین کی ملکیت منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے اسکول ایجوکیشن پروگرام، بنیادی تعلیم اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمنٹ کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کو مستقل کرنے کی منظوری دی۔ گلگت کے نوپو بیسن کو خواتین اساتذہ کے لیے ہارڈ ایریا قرار دیا گیا، جبکہ ضلع شگر کے 10 سرکاری اسکول نجی شعبے کے تعاون سے چلانے کے معاہدے کی بھی توثیق کی گئی۔
کابینہ نے ترمیم شدہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2025 کی منظوری دی اور گلگت بلتستان لائیو اسٹاک بل 2026 اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کو اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش کی۔ ڈاکٹروں کی مستقلی سے متعلق قانون میں ایک سال کی توسیع کی سفارش بھی اسمبلی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ زراعت کے لیے ضلع استور میں گنی داس اور گریکوٹ آبپاشی چینلز کی بحالی کے فنڈز جاری کرنے اور محکمہ معدنیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کی منظوری دی گئی۔
انتظامی اصلاحات کے تحت دیامر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ضلع و ڈویژن کی سطح پر ڈیولپمنٹ ریویو کمیٹیاں قائم کرنے، گلگت ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ مضافاتی علاقوں تک بڑھانے اور گلگت بلتستان پاپولیشن پالیسی 2026-36 کی منظوری دی گئی۔ لوکل کونسل حلقہ بندی 2026 میں ترامیم اور جی بی ریونیو اتھارٹی ایکٹ 2026 میں ایڈوائزری کونسل کے قیام سے متعلق تبدیلیاں بھی منظور کی گئیں۔
اسی دوران طویل عرصے سے مؤخر بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے گلگت، سکردو اور چلاس کی میونسپل کارپوریشنز کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران مقرر کر دیے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ان تین شہروں میں بلدیاتی انتخابات 5 دسمبر کو ہوں گے، جبکہ باقی سات اضلاع میں ضلع کونسل، یونین کونسل اور دیگر مقامی اداروں کے انتخابات اگلے سال اپریل میں کرانے کا منصوبہ ہے۔ وارڈز کی حلقہ بندی اور دیگر انتخابی انتظامات شروع کیے جا چکے ہیں۔

