کراچی: سندھ حکومت نے کراچی میں ریڈ اور یلو بس ریپڈ ٹرانزٹ لائنوں کی تعمیر تیز کرنے اور اگلے ماہ متوقع نئی ڈبل ڈیکر اور الیکٹرک بسوں کے روٹس جلد حتمی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اجلاس میں دیں، جہاں شہر کے جاری پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ریڈ اور یلو لائن کی تعمیر، مختلف بی آر ٹی راہداریوں کے باہمی رابطے اور نئی بسوں کی تعیناتی کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں صرف الگ الگ بی آر ٹی لائنیں تعمیر کرنا کافی نہیں، بلکہ اورنج، گرین، ریڈ اور یلو لائنوں کو اس انداز میں مربوط کرنا ضروری ہے کہ مسافر شہر کے مختلف حصوں کے درمیان آسانی سے سفر کر سکیں۔
وزیر نے متعلقہ حکام کو مختلف راہداریوں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے اور منصوبوں پر کام کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بی آر ٹی راہداریوں پر پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی تیز کرنے کو کہا، بالخصوص تاج حیدر پل کے دوسرے حصے اور یلو لائن کے ڈپو کی تعمیر پر توجہ دینے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ٹرانس کراچی کے چیف ایگزیکٹو زبیر چنا، یلو لائن کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کمال دایو، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر بہزاد میمن اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ متعلقہ افسران نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت اور آئندہ مراحل کے بارے میں بریفنگ دی۔
صوبائی حکومت کے مطابق مقصد کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنانا ہے۔ رپورٹ میں ریڈ یا یلو لائن کی نئی حتمی تکمیل تاریخ یا نئی بسوں کے تمام روٹس کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے ہدایات کو منصوبوں کی تکمیل کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔ فی الحال پیش رفت تعمیر تیز کرنے، راہداریوں کو جوڑنے اور آئندہ آنے والی بسوں کی آپریشنل تیاری مکمل کرنے پر مرکوز ہے۔

