لاہور: پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ امام مسجد صاحبان اعزازیہ پروگرام کے تحت مسجد اماموں کو مجموعی طور پر 14.5 ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں 76 ہزار سے زائد مساجد کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ فیلڈ انتظامیہ کے تعاون سے مساجد کی جیو ٹیگنگ کا عمل بھی جاری ہے۔

پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ اسٹیئرنگ کمیٹی کے پانچویں اجلاس میں لیا گیا، جس کی صدارت صوبائی وزیر اور کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے چیئرمین خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، بینک آف پنجاب، پنجاب چیریٹیز کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

خواجہ سلمان رفیق کے مطابق صوبائی حکومت اس پروگرام کے لیے سالانہ 20 ارب روپے سے زیادہ مختص کر رہی ہے۔ انہوں نے مساجد کی صوبہ گیر رجسٹریشن کو ایک بڑا انتظامی مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ متعلقہ اداروں نے اس عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس کو پروگرام کے نفاذ، ادائیگیوں اور آپریشنل امور سے متعلق بریفنگ دی۔

محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اعزازیہ کی تقسیم کے نظام کو شفاف اور آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور آن لائن پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات حل کی جا رہی ہیں۔ اماموں کو معلومات اور رہنمائی دینے کے لیے ایک چیٹ بوٹ متعارف کرانے کا منصوبہ بھی بتایا گیا۔ بینک آف پنجاب اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو آن لائن درخواستوں سے متعلق مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ امام مسجد اپنے بینک اکاؤنٹس فعال رکھنے اور اعزازیہ کی ادائیگی میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے کم از کم ہر تین ماہ میں ایک ٹرانزیکشن یقینی بنائیں۔ دستیاب سرکاری بریفنگ میں 14.5 ارب روپے کی مجموعی تقسیم اور 76 ہزار سے زائد مساجد کی رجسٹریشن کی پیش رفت بیان کی گئی ہے؛ ان اعداد کو پروگرام کے پورے سال کے حتمی اخراجات یا تمام رجسٹرڈ مساجد کے لیے یکساں فی کس ادائیگی کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔