اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد ملک میں تیار اور فروخت ہونے والی کاسمیٹکس اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے لیے حفاظت اور صفائی کے ضوابط کو مضبوط بنانا اور مقامی مارکیٹ کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں بل کی شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے بحث کے بعد بل منظور کیا۔ یہ بل اس سے قبل 14 اکتوبر کو سینیٹ کے اجلاس میں ترامیم کے ساتھ دوبارہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ ترامیم سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کی گئی تھیں، جنہیں قائمہ کمیٹی نے شق وار غور کے عمل میں دیکھا۔
مجوزہ قانون کے تحت کاسمیٹکس اور ذاتی استعمال کی مصنوعات میں شامل اجزا کے بارے میں صارفین کو واضح معلومات فراہم کرنے کے لیے لیبلنگ کے تقاضوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ گمراہ کن مارکیٹنگ کی روک تھام اور مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات کے انسانی استعمال کے لیے سائنسی جانچ کے نظام کو بہتر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو ایسی مصنوعات سے تحفظ دینا ہے جن کے اجزا، معیار یا دعووں کے بارے میں مناسب معلومات دستیاب نہ ہوں۔
پاکستان میں کاسمیٹکس کی مقامی تیاری اور درآمد دونوں وسیع مارکیٹ کا حصہ ہیں۔ اس لیے قانون سازی کا اثر صرف مینوفیکچررز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ درآمد کنندگان، تقسیم کاروں، خوردہ فروشوں اور ریگولیٹری اداروں کے لیے بھی نئے یا واضح تقاضے سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم کمیٹی کی منظوری قانون سازی کے پارلیمانی عمل کا ایک مرحلہ ہے اور اسے حتمی نافذ شدہ قانون تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک ضروری پارلیمانی اور آئینی مراحل مکمل نہ ہو جائیں۔
قائمہ کمیٹی کی کارروائی میں بنیادی توجہ صارفین کی حفاظت، شفاف معلومات اور معیار کی نگرانی پر رہی۔ آئندہ مراحل میں بل کے حتمی متن، نفاذ کے طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں سے یہ واضح ہوگا کہ نئے نظام کے تحت مصنوعات کی جانچ، رجسٹریشن یا مارکیٹ نگرانی کس انداز میں کی جائے گی۔
