اسلام آباد: سینیٹ نے وزرائے مملکت اور مشیروں کو حاصل سفارتی پاسپورٹ کی سہولت واپس لینے سے متعلق تجویز منظور نہیں کی۔ ایوان کی کارروائی کے دوران پاسپورٹس سے متعلق ترمیم زیر بحث آئی، تاہم اسے مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی اور موجودہ مراعات برقرار رہیں۔ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا جب ایوان میں مختلف قانون سازی پر حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہوئے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایوان بالا میں صارفین کے تحفظ سے متعلق ترمیمی بل 2026 پر بھی بحث ہوئی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر کی جانب سے پیش کردہ بل حکومت کی مخالفت کے باوجود منظور کر لیا گیا۔ بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کے تحفظ کی قانون سازی کا مقصد موجودہ قانونی ڈھانچے میں تبدیلی لانا تھا۔ ایوان کی کارروائی میں پلاسٹک کور سے متعلق پابندی کے قانونی سقم کو دور کرنے کا معاملہ بھی شامل رہا۔ مختلف شقوں پر حکومتی اور اتحادی بنچوں کے موقف میں فرق نے یہ واضح کیا کہ قانون سازی کے بعض معاملات پر اتحادی جماعتیں یکساں رائے نہیں رکھتیں۔

سفارتی پاسپورٹ سے متعلق تجویز کا تعلق ان سرکاری عہدوں اور شخصیات کی فہرست سے تھا جنہیں قواعد کے تحت یہ سہولت میسر ہوتی ہے۔ ترمیم کے حامی اس دائرہ کار کو محدود کرنا چاہتے تھے، مگر سینیٹ نے اس تبدیلی کی توثیق نہیں کی۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ قواعد میں فوری طور پر وہ تبدیلی نافذ نہیں ہوگی جو زیر غور تجویز میں مانگی گئی تھی۔

پیپلز پارٹی کے واک آؤٹ کو بل کی منظوری سے الگ سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق تلخ کلامی قانون سازی کے دوران ہوئی اور اتحادی جماعت کے ارکان نے احتجاجاً ایوان چھوڑا۔ اس واقعے سے کسی حکومتی اتحاد کے خاتمے یا کسی باضابطہ سیاسی علیحدگی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا ہے۔

سینیٹ کی اس نشست میں منظور یا مسترد ہونے والی ترامیم اپنے اپنے قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھیں گی۔ کسی بل کے مکمل قانون بننے کے لیے آئینی اور پارلیمانی مراحل کی تکمیل ضروری ہوتی ہے، اس لیے ایوان میں کسی ایک مرحلے کی منظوری کو حتمی نفاذ کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔