اسلام آباد: سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے خیبر پختونخوا کے تین بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 100 ارب روپے بتائی گئی ہے، حتمی غور کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیے ہیں۔ ڈان کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔

اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی نے 11 منصوبوں کی منظوری دی جن پر تخمینی سرمایہ کاری 126.5 ارب روپے بنتی ہے۔ قواعد کے تحت زیادہ مالیت یا مخصوص نوعیت کے منصوبے سی ڈی ڈبلیو پی کے جائزے کے بعد ایکنک کو بھیجے جاتے ہیں، جہاں ان کی حتمی منظوری پر غور کیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا سے متعلق تین منصوبوں کو ایکنک بھیجنے کا فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ ان کی مجموعی لاگت اجلاس میں زیر غور ترقیاتی پورٹ فولیو کا بڑا حصہ بنتی ہے۔ تاہم ایکنک کو ریفر کیے جانے کو حتمی منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ منظوریوں، فنڈنگ انتظامات اور بعد کے انتظامی مراحل کی تکمیل ضروری ہوگی۔

سی ڈی ڈبلیو پی وفاقی ترقیاتی منصوبہ بندی کے نظام میں تکنیکی اور مالی جانچ کا اہم فورم ہے۔ یہاں منصوبوں کی لاگت، دائرہ کار، متوقع فوائد اور عمل درآمد کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اجلاس میں منظور ہونے والے نسبتاً کم لاگت منصوبے اپنے مقررہ ضابطوں کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں، جبکہ بڑی مالیت کے منصوبے ایکنک کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

ترقیاتی اخراجات کے موجودہ ماحول میں منصوبوں کی ترجیح بندی بھی اہم ہے کیونکہ وفاق اور صوبوں کو محدود مالی وسائل، جاری منصوبوں کی ضروریات اور نئے انفراسٹرکچر کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے منصوبے کی ابتدائی منظوری اور عملی طور پر مکمل فنڈنگ دستیاب ہونے میں فرق ہو سکتا ہے۔

اجلاس کے فیصلوں کے بعد متعلقہ وزارتیں اور صوبائی ادارے منظور شدہ منصوبوں کے اگلے مراحل پر کام کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے تین منصوبوں کے بارے میں حتمی فیصلہ ایکنک کے غور کے بعد سامنے آئے گا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو سفارش اور اگلے منظوری مرحلے کی طرف پیش قدمی کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔