اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ادویات کی قیمتوں کے موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوا کی قیمت میں کسی بھی اضافے کے لیے قابلِ جواز بنیاد ضروری ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے متعلق اجلاس میں زیرالتوا ادویات کی قیمتوں کے کیسز اور موجودہ پرائسنگ فارمولے کا جائزہ لیا گیا۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ زیرالتوا پرائسنگ کیسز کی انفرادی بنیاد پر جانچ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان کیسز کو اگلے مرحلے کی کارروائی کے لیے تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈریپ موجودہ قیمتوں کے فارمولے کی ان شقوں کا جائزہ لے رہا ہے جو منصفانہ اور درست قیمت کے تعین میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

احد چیمہ نے تجویز دی کہ ڈریپ ادویات کی بین الاقوامی قیمتوں سے متعلق خصوصی ڈیٹابیسز تک رسائی حاصل کرنے پر غور کرے تاکہ قیمتوں کا آزادانہ تقابلی جائزہ مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق دوسرے ممالک کے نرخ مفید حوالہ فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان میں قیمت طے کرتے وقت آزادانہ جانچ اور توازن کا نظام بھی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پرائسنگ میکنزم عوامی مفاد پر مبنی ہو اور مریضوں کے ساتھ درآمد کنندگان یا دوا ساز صنعت کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ ٹرائی ویلنٹ انفلوئنزا ویکسین مارکیٹ میں مناسب مقدار میں دستیاب ہے۔ ڈریپ نے اس ویکسین سے متعلق ہارڈشپ کیس واپس لے لیا ہے کیونکہ اس کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں کنٹرول ہوتی ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، سیکریٹری صحت مومن آغا، ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ ملک اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی فارمولے کے جائزے میں صنعت کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ دوا کی دستیابی اور قیمت دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ خام مال، پیکیجنگ، توانائی اور فریٹ کی لاگت میں تبدیلی پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حکومت نے تاحال کسی مخصوص دوا کی نئی قیمت کا اعلان نہیں کیا؛ موجودہ پیش رفت قیمتوں کے تعین کے نظام اور زیرالتوا کیسز کے جائزے سے متعلق ہے۔