اسلام آباد: میڈیکل ٹریبونل نے 2021 میں ایک بچے کی سرجری کے بعد موت سے متعلق کیس میں لاہور کے ایک سینئر اینستھیٹسٹ کے خلاف سابقہ تادیبی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ ٹریبونل نے غفلت اور بے ایمانی سے متعلق سابقہ فائنڈنگز اور ڈاکٹر کے لائسنس کی منسوخی کو ختم کیا، تاہم واضح طور پر کہا کہ اس فیصلے کو ڈاکٹر کی مکمل بریت یا الزامات سے حتمی طور پر پاک قرار دینے کے مترادف نہیں سمجھا جائے گا۔

مقدمہ ایک بچے کی 2021 میں ہونے والی سرجری اور اس کے بعد موت سے متعلق تھا۔ سابقہ کارروائی میں متعلقہ ڈاکٹر کے کردار پر پیشہ ورانہ غفلت کے سوالات اٹھائے گئے تھے اور تادیبی نتیجے کے طور پر لائسنس منسوخ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اس فیصلے کو چیلنج کیا، جس کے بعد میڈیکل ٹریبونل نے ریکارڈ اور کارروائی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔

ٹریبونل کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ سابقہ فیصلہ برقرار رکھنے کے بجائے معاملے کی ازسرنو جانچ ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ طبی غفلت ثابت ہو گئی ہے اور نہ ہی یہ کہ ڈاکٹر مکمل طور پر بے قصور ثابت ہو چکا ہے۔ نئی انکوائری میں متعلقہ طبی ریکارڈ، علاج کے مراحل، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور فریقین کے مؤقف کو دوبارہ جانچا جائے گا، جس کے بعد مجاز فورم نیا نتیجہ اخذ کرے گا۔

طبی غفلت کے مقدمات میں کسی مریض کے ناموافق نتیجے اور قابلِ سزا پیشہ ورانہ غفلت کے درمیان فرق قانونی اور طبی شواہد کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے انکوائری کے عمل، ماہرین کی رائے، ریکارڈ تک رسائی اور متعلقہ ڈاکٹر کو جواب دینے کا مناسب موقع دینا حتمی فیصلے کی ساکھ کے لیے اہم ہوتا ہے۔

ٹریبونل کی جانب سے تازہ انکوائری کا حکم اس کیس کو دوبارہ ضابطہ جاتی مرحلے میں لے گیا ہے۔ اب متعلقہ ادارے پر لازم ہوگا کہ وہ ٹریبونل کی ہدایات کے مطابق نئی کارروائی کرے اور کسی بھی حتمی تادیبی نتیجے کو شواہد اور منصفانہ طریقہ کار سے جوڑے۔ جب تک نئی انکوائری مکمل نہیں ہوتی، سابقہ الزامات کو حتمی ثابت شدہ نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔