اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان حکام کی جانب سے سرحد پار انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں دہشت گرد گروہوں اور ان کے لاجسٹک معاونتی مراکز تک محدود ہیں۔ دفتر خارجہ نے 26 اکتوبر کو جاری بیان میں پاکستانی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں نے 2026 کے دوران پاکستان میں 3,500 سے زیادہ جانی نقصانات کیے ہیں۔ یہ تعداد اور ذمہ داری کا تعین پاکستانی حکومت کا سرکاری دعویٰ ہے، جبکہ افغان حکام پاکستانی کارروائیوں اور ان کے نتائج کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔
دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند مسلح گروہوں سمیت تنظیموں کو افغان سرزمین پر پناہ اور سہولت حاصل ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے متعلقہ نگرانی کے نظاموں کی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان بارہا کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ افغان طالبان حکومت ماضی میں ایسے پاکستانی الزامات کو مسترد یا ان سے اختلاف کرتی رہی ہے اور کہتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔
پاکستانی بیان کے مطابق حالیہ کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت آخری راستے کے طور پر کی گئیں اور اہداف کے انتخاب میں امتیاز اور احتیاط کے اصول ملحوظ رکھے گئے۔ دفتر خارجہ نے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی اور کہا کہ کارروائیوں کا دائرہ خطرے کے تناسب سے رکھا گیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تنازع سے متاثرہ علاقوں تک محدود رسائی کے باعث مشکل ہو سکتی ہے، اس لیے شہری نقصانات سے متعلق متضاد بیانات کو متعلقہ فریقوں کے دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کئی برس سے سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے پر کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح نیٹ ورک پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان حکام پاکستان کے بعض الزامات اور فوجی اقدامات پر اعتراض کرتے ہوئے خودمختاری اور شہری تحفظ کے سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان حکام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔ پاکستان نے ساتھ ہی کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ موجودہ بیان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سکیورٹی اختلافات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور اس معاملے میں سفارتی رابطے اور قابل تصدیق انسداد دہشت گردی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
