اسلام آباد: سینیٹ نے ایک نجی رکن بل کی وہ تجویز منظور نہیں کی جس کے تحت وفاقی وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیروں کو عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی سفارتی پاسپورٹ رکھنے کی سہولت دی جانی تھی۔ ایوان میں بل پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی جماعتوں کے ارکان کے درمیان اختلاف سامنے آیا اور مجوزہ قانون سازی مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی۔
دستیاب پارلیمانی رپورٹنگ کے مطابق بل کا مقصد پاسپورٹ سے متعلق موجودہ قانونی و انتظامی بندوبست میں تبدیلی کرتے ہوئے بعض اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کے لیے سفارتی پاسپورٹ کی اہلیت کو وسیع کرنا تھا۔ اس تجویز پر اعتراض کرنے والے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ سفارتی پاسپورٹ ایک سرکاری سہولت ہے جسے عہدے اور سرکاری ذمہ داری سے منسلک رہنا چاہیے، نہ کہ عہدہ ختم ہونے کے بعد مستقل استحقاق کی شکل دی جائے۔
بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی تحفظات ظاہر کیے۔ ایوان کی کارروائی میں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلاف نمایاں ہوا اور بعض ارکان نے واک آؤٹ بھی کیا۔ بل کے حامیوں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ مختلف سرکاری عہدوں کے درمیان پاسپورٹ کی سہولت سے متعلق امتیاز دور ہونا چاہیے، تاہم مخالف ارکان نے اسے غیر ضروری مراعت قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت نہیں کی۔
سفارتی پاسپورٹ پاکستان میں مخصوص آئینی و سرکاری عہدوں، سفارتی ذمہ داریوں اور قواعد میں متعین دیگر اہل افراد کو جاری کیا جاتا ہے۔ کسی نجی رکن کی قانون سازی کو نافذ ہونے کے لیے پارلیمان کے متعلقہ مراحل سے گزرنا اور مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس معاملے میں سینیٹ کی سطح پر مجوزہ تبدیلی کو منظوری نہ ملنے کے باعث موجودہ ضابطہ برقرار رہے گا، جب تک اس موضوع پر نئی قانون سازی یا قواعد میں کوئی الگ ترمیم نہ کی جائے۔
یہ معاملہ سرکاری عہدوں سے وابستہ مراعات اور ان کی مدت کے بارے میں پارلیمانی نگرانی کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے۔ ایوان میں ہونے والی بحث سے واضح ہوا کہ حکومتی اتحاد کے اندر بھی ایسی مراعات کے دائرہ کار پر یکساں رائے موجود نہیں۔ بل مسترد ہونے کا مطلب کسی موجودہ اہل عہدیدار کا سفارتی پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ ہونا نہیں، بلکہ زیر بحث اضافی یا بعد از عہدہ سہولت کو قانونی منظوری نہ ملنا ہے۔
