پشاور: ضلعی انتظامیہ نے رنگ روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے خلاف بڑے آپریشن کے دوران سرکاری زمین پر قائم 450 سے زائد دکانیں، مارکیٹیں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات مسمار کر دی ہیں۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر کے مطابق کارروائی گزشتہ ہفتے شروع کی گئی تھی اور مختلف مقامات پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کا ہدف ایسی تعمیرات ہیں جو سرکاری اراضی یا مقررہ حدود میں اجازت کے بغیر قائم کی گئی تھیں اور جن کے باعث سڑکوں، آمدورفت اور عوامی جگہوں کے استعمال میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی۔ کارروائی میں متعلقہ محکموں اور ضلعی عملے نے حصہ لیا، جبکہ بعض مقامات پر بھاری مشینری کے ذریعے مستقل نوعیت کی تعمیرات ہٹائی گئیں۔

رنگ روڈ پشاور شہر کی اہم ٹریفک شریانوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے اطراف تجارتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے ساتھ تجاوزات کا مسئلہ کئی برس سے انتظامی توجہ کا موضوع رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری زمین کا تحفظ اور ٹریفک کے لیے دستیاب راستوں کو بحال کرنا مہم کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کارروائی صرف ایک مقام تک محدود نہیں رہے گی بلکہ نشاندہی شدہ دیگر علاقوں میں بھی جاری رکھی جائے گی۔

تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں قانونی حیثیت کا تعین اہم مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ بعض مقامات پر ملکیت، لیز، حدود اور اجازت ناموں سے متعلق دعوے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے مسماری کی مجموعی تعداد انتظامیہ کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ کی گئی ہے، جبکہ کسی انفرادی جائیداد کے ملکیتی یا قانونی تنازع کے بارے میں الگ عدالتی یا انتظامی کارروائی ہو سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی حالیہ عرصے میں تجاوزات اور سرکاری زمین پر غیر مجاز قبضوں کے خلاف مہمات چلائی گئی ہیں۔ پشاور میں جاری کارروائی کے اگلے مرحلے میں انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خالی کرائی گئی زمین دوبارہ تجاوزات کی زد میں نہ آئے اور متاثرہ علاقوں میں ٹریفک، پیدل آمدورفت اور سرکاری اراضی کے استعمال سے متعلق واضح انتظام برقرار رکھا جائے۔