اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ایک صفائی کارکن کی موت کے معاملے پر سوال جواب کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی اور اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ کمیٹی، جس کی صدارت سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کی، کارکن کی موت کے حالات، تنخواہ کی ادائیگی، ملازمت کے معاہدے اور سُتھرا پنجاب کے تحت بھرتی کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہی تھی۔
ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کارکن نے یکم جولائی کو گوجرانوالہ میں خود کو آگ لگا لی تھی اور دو روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا۔ واقعے سے متعلق یہ الزام سامنے آیا تھا کہ اسے مکمل تنخواہ نہیں ملی اور ملازمت سے متعلق مسائل کا سامنا تھا۔ تاہم گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو عبدالرزاق علی ڈوگر نے کمیٹی میں اس دعوے سے اختلاف کیا اور کہا کہ بینک ریکارڈ مکمل تنخواہ کی ادائیگی ظاہر کرتا ہے۔ ان متضاد مؤقفوں پر کمیٹی کی جانچ ابھی جاری ہے اور کسی ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہوا۔
اجلاس میں ایمل ولی خان نے حکام سے سخت سوالات کیے تو عابد شیر علی نے سوال کرنے کے انداز پر اعتراض کیا۔ دونوں سینیٹرز کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا اور دیگر اراکین نے مداخلت کر کے ماحول کو پرسکون کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کارکن کا معاہدہ 31 مئی کو ختم ہو چکا تھا اور موت کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا، جبکہ اراکین نے اس مؤقف کے ساتھ تنخواہ اور دوبارہ تعیناتی سے متعلق ریکارڈ کی وضاحت مانگی۔
کمیٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سُتھرا پنجاب صفائی عملے کے لیے تیسرے فریق کے ذریعے بھرتی کیوں کر رہا تھا۔ سینیٹر قرۃ العین مری نے نشاندہی کی کہ سُتھرا پنجاب ایکٹ 2026 میں نافذ ہوا، جبکہ متعلقہ ملازمت اور واقعے کی ٹائم لائن اس سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ کارکن پہلے کنٹریکٹر کے ذریعے رکھا گیا اور بعد میں دوبارہ ملازمت دے کر دفتر میں نائب قاصد کی ذمہ داری سونپی گئی، جس کے بعد مبینہ بدانتظامی کی بنیاد پر اسے برطرف کیا گیا۔ یہ کمپنی کا مؤقف ہے اور کمیٹی نے اس کی دستاویزی جانچ طلب کی ہے۔
کمپنی کے مطابق متوفی کے اہل خانہ کو مالی مدد دی گئی اور ایک چیمبر آف کامرس کی معاونت سے پلاٹ بھی خریدا گیا۔ کمیٹی نے سوال کیا کہ مالی معاوضے کے علاوہ ملازمین کے لیے کوئی باقاعدہ شکایتی یا ازالہ نظام موجود ہے یا نہیں۔ چیئرپرسن نے متوفی کے اہل خانہ کو اگلے اجلاس میں بلا کر ان کا مؤقف براہ راست سننے کی ہدایت بھی کی۔
کمیٹی نے سُتھرا پنجاب سے 2025 اور 2026 کے متعلقہ قوانین، ملازمت اور ادائیگیوں کا ریکارڈ اور دیگر دستاویزات پیش کرنے کو کہا ہے۔ اس مرحلے پر کارکن کی موت کے محرکات، تنخواہ میں مبینہ کٹوتی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے بارے میں مختلف دعوے موجود ہیں؛ کمیٹی کی جاری تحقیقات اور دستاویزی ریکارڈ ہی ان نکات کی مزید وضاحت کریں گے۔




