اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاک ڈیٹا کام کی جانب سے سرکاری اداروں سے متعلق ڈیٹا کو متحدہ عرب امارات کی ایک سیٹلائٹ کمپنی کے انفراسٹرکچر پر منتقل کرنے کے معاملے پر قومی سلامتی اور ڈیٹا تحفظ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے پوچھا کہ منتقلی سے پہلے متعلقہ اجازتیں حاصل کی گئی تھیں یا نہیں اور ایسے انتظام میں حساس سرکاری معلومات کی حفاظت کیسے یقینی بنائی گئی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ غیر ملکی کمپنی یاسٹ متحدہ عرب امارات میں قائم ہے اور اس میں وہاں کی حکومت کی اکثریتی ملکیت ہے۔ پاک ڈیٹا کام کے جنرل منیجر نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیٹا کی منتقلی تمام متعلقہ سرکاری اداروں کی اجازت کے بعد کی گئی۔ دوسری جانب کمیٹی کے ارکان اور سابق چیف ایگزیکٹو نے ممکنہ سکیورٹی کمزوریوں پر سوالات اٹھائے اور انتظام کا آزادانہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر سعدیہ عباسی نے سوال کیا کہ سرکاری ڈیٹا کو غیر ملکی سیٹلائٹ انفراسٹرکچر پر منتقل کرنے سے سکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ کمیٹی کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ قومی اسپیکٹرم صلاحیت کی حدود اس منتقلی کی ایک بنیادی وجہ تھیں۔ یہ نکات اجلاس میں حکام اور اراکین کے بیانات ہیں؛ دستیاب معلومات میں کسی ڈیٹا لیک، غیر مجاز رسائی یا جاسوسی کے واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن سکیورٹی بورڈ یا متعلقہ فورم کے ذریعے انتظام کا آڈٹ کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ سکیورٹی، ضابطہ جاتی اور طریقہ کار کے تمام تقاضے پورے ہوئے یا نہیں۔ ارکان نے یہ بھی کہا کہ صارف اداروں کو اس بات سے مناسب طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے کہ ان کی سیٹلائٹ سروس غیر ملکی انفراسٹرکچر استعمال کر رہی ہے۔

اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے حکام نے بتایا کہ بعض معلومات ایک نان ڈسکلوژر معاہدے کے تحت محدود ہیں۔ کمیٹی نے وزارت سے ایسا طریقہ کار وضع کرنے کو کہا جس کے ذریعے پارلیمانی نگرانی کے لیے ضروری معلومات فراہم کی جا سکیں جبکہ معاہدے کی رازداری کی شرائط بھی متاثر نہ ہوں۔

اسی اجلاس میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری سے متعلق اتصالات پر واجب الادا تقریباً 800 ملین ڈالر کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے، تاہم یہ پاک ڈیٹا کام کے ڈیٹا منتقلی کے معاملے سے الگ مالی و ادارہ جاتی مسئلہ ہے۔

اس مرحلے پر سینیٹ کمیٹی نے کسی خلاف ورزی کا حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ معاملہ پارلیمانی نگرانی میں آیا، حکام سے وضاحت طلب کی گئی اور سکیورٹی آڈٹ کی سفارش سامنے آئی۔ آئندہ اہم مرحلہ آڈٹ یا متعلقہ سرکاری اداروں کی تفصیلی رپورٹ ہوگی۔