اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کمپنیوں کے تقریباً 84 ارب روپے کے بقایاجات کی وصولی اور عدالتی مقدمات کی تازہ پیش رفت پر جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کو پی ٹی اے حکام نے طویل عرصے سے زیر التوا واجبات اور قانونی تنازعات کے بارے میں بریفنگ دی۔

حکام کے مطابق ایل ڈی آئی کمپنیوں پر تقریباً 24 ارب روپے اصل بقایاجات ہیں، جبکہ 60 ارب روپے کے لگ بھگ لیٹ پیمنٹ سرچارج بنتا ہے، جس سے مجموعی رقم تقریباً 84 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔ کمیٹی نے خاص طور پر ان مقدمات میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی جن میں بڑی مالی ذمہ داریاں شامل ہیں اور پی ٹی اے سے ہر زیر التوا کیس کی مالیت اور موجودہ قانونی حیثیت کی تفصیل مانگی گئی۔

وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیلی کام ٹریبونل کے چیئرمین اور ارکان تعینات ہو چکے ہیں اور ٹریبونل نے کام شروع کر دیا ہے۔ ایل ڈی آئی کمپنیوں سے متعلق 20 مقدمات نئے ٹریبونل کو منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ پی ٹی اے کے ایک رکن کے مطابق مختلف عدالتوں میں مجموعی طور پر 38 کیس زیر سماعت ہیں۔ متعلقہ کمپنیوں کے لائسنس ختم ہونے کے بعد پی ٹی اے نے سماعتیں کر کے احکامات جاری کیے تھے، جنہیں کمپنیوں نے مختلف قانونی فورمز پر چیلنج کیا۔

کمیٹی نے متعلقہ حکام کو اگلے اجلاس میں واجبات کی وصولی کی پیش رفت اور منتقل کیے گئے مقدمات کی صورتحال پر اپ ڈیٹ دینے کی ہدایت کی۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ فریق سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا قانونی حق برقرار رکھیں گے۔

اسی اجلاس میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کے لائسنسنگ فریم ورک کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پی ٹی اے کے مطابق اسٹارلنک پاکستان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، لیکن پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے ساتھ مطلوبہ رجسٹریشن کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، جس کے بعد ہی کمپنی پی ٹی اے کے مقررہ سیٹلائٹ سروس لائسنس کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔

ایل ڈی آئی واجبات سے متعلق 84 ارب روپے کی رقم حکام کی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ پر مبنی ہے اور متعدد مقدمات ابھی عدالتوں یا ٹریبونل میں زیر سماعت ہیں۔ اس لیے بقایاجات کی حتمی قابل وصول رقم، جرمانوں کی قانونی حیثیت اور وصولی کا وقت عدالتی اور ضابطہ جاتی فیصلوں کے بعد مزید واضح ہوگا۔