اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے 765 کلو وولٹ داسو–اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی سست پیش رفت اور مالی انتظام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں سے اگلے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت اجلاس کو بتایا گیا کہ بیرونی مالی معاونین سے منصوبے کے لیے 76 ارب روپے موصول ہوئے، جبکہ اب تک 9 ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں۔

کمیٹی چیئرمین نے بریفنگ کے دوران کہا کہ منصوبے کی فنانسنگ پر 12 فیصد سود ادا کیا گیا اور تاخیر سے سرکاری مالی بوجھ بڑھنے کے امکان پر سوال اٹھایا۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاور ڈویژن نے گزشتہ سال داسو سے متعلق ضروریات کے لیے حکومت سے 19 ارب روپے مانگے تھے، جن میں سے 17 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ چند روز قبل مزید 12 ارب روپے جاری کیے گئے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے سوال کیا کہ تازہ رقم پر مزید کتنی سودی لاگت بنے گی۔ یہ رقوم اور شرح اجلاس میں پیش کی گئی معلومات ہیں؛ ان کا مکمل مالیاتی حساب اور معاہداتی بنیاد اگلی تفصیلی بریفنگ میں واضح ہونا باقی ہے۔

داسو–اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبہ چار لاٹس پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی ترسیلی نظام تک پہنچانا ہے۔ کمیٹی نے تعمیر کی موجودہ رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین نے پوچھا کہ اگر کام اسی رفتار سے جاری رہا تو کیا لائن دو سال کے اندر مکمل ہو سکے گی۔ حکام سے ہر لاٹ کی جسمانی پیش رفت، ادائیگیوں، خریداری اور مقررہ اہداف کا باہمی موازنہ فراہم کرنے کو کہا گیا۔

اجلاس میں درآمدی سازوسامان اور ہارڈویئر منصوبہ مقامات تک پہنچنے کے باوجود مطلوبہ تعداد میں ٹاورز تعمیر نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی نے کہا کہ تعمیر سے پہلے بڑی مقدار میں سامان منگوانے کی منصوبہ بندی، ذخیرہ کرنے کی لاگت، حفاظت اور فنڈز کے مؤثر استعمال کی وضاحت ضروری ہے۔ نیسپاک سے لاٹس ایک تا چار میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں اور ادائیگی کے طریقۂ کار کی تفصیلات مانگی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ مختلف کاموں کے بل الگ انتظامات کے تحت پراسیس ہوتے ہیں، جسے کمیٹی مزید جانچنا چاہتی ہے۔

حکام کے مطابق متعدد وفاقی وزرا پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی ادارہ داسو ڈیم سے منسلک ٹرانسمیشن لائن کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو پاور ڈویژن کے بعض اخراجات مختص رقوم سے بڑھنے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کو بلا کر فنانسنگ، سودی لاگت، تعمیراتی تاخیر، خریداری، ادائیگیوں اور مجموعی جسمانی پیش رفت کی مربوط تصویر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی کی تشویش اور سوالات کسی ٹھیکیدار، مشیر یا سرکاری افسر کے خلاف حتمی بدعنوانی کا عدالتی یا آڈٹ فیصلہ نہیں ہیں۔ اس مرحلے پر سامنے آنے والی معلومات پارلیمانی نگرانی اور بریفنگ کا حصہ ہیں۔ ذمہ داری کے تعین، مالی بے ضابطگی کی تصدیق یا کسی قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ دستاویزات، معاہدوں، آڈٹ اور مجاز ادارے کی باقاعدہ جانچ درکار ہوگی۔ منصوبے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ پن بجلی گھر کی پیداواری صلاحیت اسی وقت مؤثر طور پر استعمال ہو سکتی ہے جب متعلقہ ترسیلی ڈھانچہ بروقت تیار ہو؛ لہٰذا اگلی بریفنگ میں واضح تکمیلی شیڈول اور لاگت کی تازہ صورتحال مرکزی سوال رہیں گے۔