اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے بین الصوبائی سفر کے دوران پولیس چیک پوسٹس پر غیر ضروری جانچ، مبینہ بدسلوکی اور سامان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ سے متعلق عوامی شکایات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت اجلاس میں سکیورٹی، شہریوں کی آمدورفت اور ضروری اشیا کی بین الصوبائی ترسیل سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب میں 31 کراس بارڈر چیک پوسٹس فعال ہیں اور 15 اہم سکیورٹی مقامات پر اہلکار تعینات ہیں۔ ان کے مطابق جنوری سے صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم روزانہ موصول ہونے والے خطرے کے انتباہات کے باعث چیک پوسٹس پر سخت جانچ ضروری سمجھی جاتی ہے۔

کمیٹی کے ارکان نے تسلیم کیا کہ سکیورٹی تقاضے اہم ہیں، لیکن پولیس اہلکاروں کے رویے اور شہریوں سے برتاؤ میں بہتری کی ضرورت ہے۔ خصوصی مدعو سینیٹر ہدایت اللہ خان اور دیگر ارکان نے پولیس پر کام کے دباؤ، تھکن اور وسائل کی کمی کا بھی ذکر کیا۔ قبائلی علاقوں میں تلاشی کے دوران خواتین کی پرائیویسی اور مقامی سماجی روایات کا احترام یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

سندھ پولیس کے حکام نے کسی مخصوص برادری کے خلاف امتیازی پالیسی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی چیکنگ قومی سکیورٹی، اسمگلنگ اور منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے یکساں طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق بعض شناختی کارڈز کو نادرا کی جانب سے ’مشکوک‘ درجہ دیے جانے کے باعث اضافی جانچ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور ایسے معاملات کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ضلعی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔

اجلاس میں گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت اور سڑکوں پر رکاوٹوں کے باعث ترسیل میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ خوراک نے ذخائر اور خریداری پالیسی پر بریفنگ دی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے ضروری اشیا کی بلا تعطل ترسیل کے لیے واضح اور شفاف طریقہ کار سے متعلق تحریری تجاویز طلب کیں۔

چیک پوسٹس پر مبینہ ہراسانی سے متعلق نکات کمیٹی کے سامنے شہری شکایات اور ارکان کے مشاہدات کی صورت میں آئے ہیں؛ انہیں ہر چیک پوسٹ یا ہر اہلکار کے بارے میں ثابت شدہ عمومی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ پولیس نے سخت جانچ کو سکیورٹی خدشات سے جوڑا ہے، جبکہ کمیٹی نے شہری حقوق، مقامی روایات اور آزادانہ بین الصوبائی آمدورفت کا احترام برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔