اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کمپنیوں پر واجب الادا تقریباً 84 ارب روپے کی وصولی اور متعلقہ عدالتی مقدمات کی پیش رفت پر تازہ رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجموعی رقم میں تقریباً 24 ارب روپے اصل واجبات جبکہ قریب 60 ارب روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں بنتے ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ معاملہ پیر کو سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آیا جہاں ارکان نے ایل ڈی آئی اور فکسڈ لوکل لوپ لائسنسوں سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا قانونی تنازعات اور حکومتی رقوم کی عدم وصولی پر تشویش ظاہر کی۔ حکام نے بتایا کہ متعدد مقدمات عدالتوں میں رہے ہیں اور ٹیلی کمیونیکیشن کے پیچیدہ تنازعات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے قائم نئے ٹیلی کام ٹریبونل کو بھی کیس منتقل کیے جا رہے ہیں۔
کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 20 مقدمات ٹیلی کام ٹریبونل کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ وزارت آئی ٹی کے نمائندوں کے مطابق نئے فورم کے قیام کا مقصد تکنیکی نوعیت کے ٹیلی کام تنازعات کی زیادہ تیز اور تخصصی سماعت ممکن بنانا ہے، اگرچہ کسی فریق کو ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف قانون کے تحت اعلیٰ عدالتی فورم سے رجوع کرنے کا حق برقرار رہ سکتا ہے۔
کمیٹی نے پی ٹی اے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں واجبات کی وصولی، ہر زیر التوا مقدمے کی موجودہ حیثیت اور وصولی کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کی واضح تفصیل پیش کی جائے۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ کئی سال سے چلنے والی قانونی کارروائیوں کے باعث سرکاری خزانے کی بڑی رقم پھنسی ہوئی ہے، اس لیے محض مجموعی اعداد بتانے کے بجائے عملی ریکوری پلان اور کیس بہ کیس پیش رفت سامنے آنی چاہیے۔
ایل ڈی آئی لائسنس رکھنے والی کمپنیاں بین الاقوامی اور طویل فاصلے کی ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کے اہم حصے سے متعلق رہی ہیں۔ واجبات کا تنازع لائسنس فیس، قابل اطلاق چارجز اور تاخیر سے ادائیگی پر سرچارج سمیت مختلف مالی ذمہ داریوں سے جڑا ہے۔ زیر التوا عدالتی کارروائی کی وجہ سے پوری رقم کو فوری طور پر حتمی طور پر قابل وصول نقد رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ حتمی ذمہ داری اور ادائیگی بعض مقدمات کے عدالتی یا ٹریبونل فیصلوں سے مشروط رہ سکتی ہے۔
اسی اجلاس میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ آپریٹرز اور اسٹارلنک کی پاکستان میں ممکنہ لائسنسنگ پر بھی الگ بریفنگ دی گئی، لیکن 84 ارب روپے کے ایل ڈی آئی واجبات کی وصولی ایک الگ مالی و ریگولیٹری معاملہ ہے۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ متعلقہ قانونی فورمز کے ذریعے کیسز آگے بڑھائے جا رہے ہیں، جبکہ کمیٹی نے وصولی کی رفتار اور حکمت عملی پر پارلیمانی نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مرحلے پر سینیٹ کمیٹی نے کسی کمپنی کے خلاف نئی مالی سزا عائد نہیں کی اور نہ ہی 84 ارب روپے کی مکمل وصولی کی کوئی تاریخ مقرر کی ہے۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ واجبات کی مجموعی تفصیل کمیٹی کے سامنے رکھی گئی، مقدمات کے ٹیلی کام ٹریبونل میں انتقال کی اطلاع دی گئی اور پی ٹی اے سے آئندہ اجلاس کے لیے جامع پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

