اسلام آباد: سینیٹ نے ایک نجی رکن کے مجوزہ پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 کو ایوان میں متعارف کرانے کی تحریک مسترد کر دی۔ مجوزہ قانون کا مقصد سفارتی پاسپورٹ کے استحقاق کو محدود کرنا اور بعض حکومتی عہدوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو اس سہولت کے دائرے سے نکالنا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق بل تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے ساتھ پیش کیا۔ مسودے میں پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 12A شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس کے ذریعے وزرائے مملکت، مشیروں، معاونین خصوصی، وفاقی سیکریٹریوں اور ڈائریکٹر جنرل سطح کے بعض افسران کے لیے سفارتی پاسپورٹ کے استحقاق پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ ترمیم کابینہ کے اختیار سے متعلق ہے۔ دوسری جانب سینیٹر فیصل سلیم نے دلیل دی کہ سفارتی پاسپورٹ صرف ان عہدیداروں تک محدود ہونا چاہیے جن کی سرکاری ذمہ داریاں اس کی ضرورت پیدا کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے اس نکتے پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر مملکت بھی پارلیمان کا نمائندہ ہوتا ہے۔

ایوان کی جانب سے تحریک مسترد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مجوزہ ترمیم اس مرحلے پر قانون سازی کے عمل میں آگے نہیں بڑھی۔ اسے موجودہ پاسپورٹ قانون میں تبدیلی یا سفارتی پاسپورٹ کے موجودہ استحقاق کی منسوخی نہیں سمجھا جا سکتا۔ موجودہ قانونی و انتظامی ضابطے بدستور اپنی جگہ برقرار ہیں جب تک پارلیمان مستقبل میں کوئی مختلف قانون منظور نہ کرے۔

اسی اجلاس میں سینیٹ نے دیگر قانون سازی بھی کی۔ ایوان نے اقراء گلوبل یونیورسٹی، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی اور ضابطہ فوجداری سے متعلق بلوں پر کارروائی کی، جبکہ اسلام آباد میں پلاسٹک بک کورز پر پابندی کے قانون میں استثنا ختم کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی۔ اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 مؤخر کر دیا گیا۔

اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سیاسی اختلاف بھی سامنے آیا، تاہم سفارتی پاسپورٹ سے متعلق معاملے کا حتمی پارلیمانی نتیجہ واضح رہا: ایوان نے مجوزہ ترمیمی بل کو متعارف کرانے کی اجازت نہیں دی۔ مستقبل میں اسی موضوع پر نئی یا نظرثانی شدہ قانون سازی پیش کی جا سکتی ہے، لیکن موجودہ بل اس مرحلے پر رک گیا ہے۔