اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ سے ملاقات میں کراچی تا پشاور مین لائن-1 ریلوے منصوبے کے جلد سنگ بنیاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق جمعہ 4 ستمبر کو ہونے والی ملاقات میں ایم ایل-1 کی جدیدکاری کو قومی بنیادی ڈھانچے کی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی رابطوں کو مضبوط کرنے اور بڑی صنعتی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے ضروری ہے۔ اجلاس میں منصوبے کے تعمیراتی مرحلے کو جلد شروع کرنے، متعلقہ انتظامی رکاوٹیں دور کرنے اور مالی و ادارہ جاتی تعاون کو عملی شکل دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔
ایم ایل-1 پاکستان کی مرکزی ریلوے راہداری ہے جو کراچی کو پشاور سے ملاتی اور راستے میں ملک کے بڑے شہری و صنعتی مراکز سے گزرتی ہے۔ منصوبے کا مقصد پرانی پٹری، سگنلنگ اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، بعض حصوں کو دوہرا کرنا اور مسافر و مال گاڑیوں کی رفتار، حفاظت اور گنجائش بڑھانا ہے۔ یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اہم اجزا میں شمار کیا جاتا رہا ہے، تاہم مالی انتظام، تکنیکی شرائط اور طویل سرکاری کارروائیوں کے باعث اس میں بار بار تاخیر ہوئی۔
ڈان کے مطابق پاکستان نے کراچی سے روہڑی کے حصے کے لیے اے ڈی بی سے دو ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کی ہے۔ منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے جولائی میں کہا تھا کہ پہلے مرحلے کا سنگ بنیاد 2027 کے آغاز میں رکھنے کا ہدف ہے۔ تازہ ملاقات میں کسی نئی حتمی تاریخ یا مکمل تعمیراتی شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے عملی آغاز کا انحصار باقی منظوریوں، مالی بندوبست اور معاہداتی مراحل پر ہوگا۔
وزیر اعظم اور اے ڈی بی کے نائب صدر نے بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2026 تا 2030 کا بھی جائزہ لیا۔ اس پانچ سالہ حکمت عملی کے تحت پائیدار اور جامع ترقی، نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری اور بنیادی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً دس ارب ڈالر تک مالی تعاون کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ملاقات میں طے شدہ ترجیحات کو قابلِ پیمائش اور عملی نتائج میں بدلنے پر اتفاق کیا گیا۔
بات چیت میں نجی شعبے کی معاونت، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مالی، ساختی اور حکمرانی سے متعلق اصلاحات کے ذریعے طویل مدتی اقتصادی تبدیلی چاہتی ہے اور منصوبوں میں تاخیر پیدا کرنے والی انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے خصوصی عمل درآمدی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
ینگ منگ یانگ کا یہ اے ڈی بی کے نائب صدر کی حیثیت سے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ وزیر اعظم آفس کے بیان میں ملاقات کو پاکستان اور اے ڈی بی کی کئی دہائیوں پر محیط ترقیاتی شراکت داری کے تسلسل کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم ایم ایل-1 کے لیے تعمیراتی معاہدے، مکمل فنڈنگ، ٹینڈر یا حتمی آغاز کی نئی تفصیلات جاری نہیں ہوئیں؛ تازہ پیش رفت بنیادی طور پر سیاسی و ادارہ جاتی سطح پر جلد عملی آغاز کی ضرورت پر اتفاق ہے۔




