نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک مختصر پاکستانی وفد ہے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی نیویارک میں موجود ہیں اور اجلاس سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم 25 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ متوقع خطاب میں پاکستان کی جانب سے بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورت حال، تنازعات کے پرامن حل، سفارت کاری اور مکالمے کی اہمیت پر موقف پیش کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے دورے کے پروگرام میں جنرل اسمبلی کے مرکزی اجلاس کے علاوہ متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وفد کے مطابق شہباز شریف مختلف عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کے خارجہ، اقتصادی اور ترقیاتی مفادات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

حکومتی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف کوششوں، اسلاموفوبیا اور عالمی اقتصادی چیلنجز جیسے موضوعات پر پاکستان کی ترجیحات اجاگر کریں گے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے حق خود ارادیت کے مسئلے کی طرف بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستانی قیادت ایسے وقت میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے مسائل بین الاقوامی سفارت کاری کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ پاکستان گزشتہ کئی ماہ کے دوران علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف سفارتی رابطے کرتا رہا ہے، اور حکومت کے مطابق وزیراعظم انہی کوششوں کا ذکر بھی عالمی فورم پر کریں گے۔

وزیراعظم اجلاس کے موقع پر ترقی اور موسمیاتی کارروائی سے متعلق اعلیٰ سطحی نشستوں میں بھی شرکت کریں گے۔ پاکستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی نقصان، توانائی کی ضروریات اور ترقیاتی مالیات کے مسائل کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے، اس لیے ان نشستوں میں مالی معاونت، پائیدار ترقی اور موسمیاتی مزاحمت کے موضوعات اہم رہنے کی توقع ہے۔

یہ دورہ اقوام متحدہ کی سالانہ جنرل اسمبلی کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں مختلف ممالک کے سربراہان حکومت و ریاست ایک ہی ہفتے میں کثیرالجہتی اجلاسوں اور دوطرفہ ملاقاتوں میں شریک ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر اور ملاقاتوں کے بعد پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے مخصوص نکات اور کسی ممکنہ مشترکہ اعلامیے یا عملی پیش رفت کی تفصیل سامنے آئے گی۔