نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات میں پولیو ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ زچہ و بچہ صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے شعبوں میں فاؤنڈیشن کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کی مسلسل شراکت کو سراہا۔ سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت بیماری کے خاتمے کو صحت عامہ کی ترجیح سمجھتی ہے اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ویکسینیشن پروگرام پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بل گیٹس نے بھی پولیو کے خاتمے کو آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا اور وزیراعظم کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو ویکسین پروگرام کے سلسلے میں دی جانے والی ہدایات کو سراہا۔
ملاقات صرف پولیو تک محدود نہیں رہی۔ وزیراعظم نے بل گیٹس کو حکومت کی زرعی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا، جن میں جدت، بایوٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، تحقیق اور کسانوں کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ دونوں جانب بہتر بیجوں، مویشیوں کی جینیات اور ابھرتی زرعی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
گیٹس فاؤنڈیشن پاکستان میں کئی برسوں سے پولیو، بنیادی صحت، غذائیت اور مالی شمولیت کے شعبوں میں مختلف شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی عالمی مہم میں پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جہاں وائرس کی مقامی منتقلی کا مسئلہ برقرار رہا، اس لیے ویکسینیشن کی کوریج، نگرانی، سرحدی نقل و حرکت اور مقامی سطح پر اعتماد سازی کو پالیسی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
سرکاری بیان میں کسی نئے مالی پیکیج یا کسی مخصوص نئی گرانٹ کے اعلان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ملاقات کا مرکزی نتیجہ موجودہ تعاون جاری رکھنے اور اسے صحت، ٹیکنالوجی اور زرعی ترقی کے دیگر شعبوں تک وسعت دینے کے عزم کی صورت میں سامنے آیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شراکت داری کو ایسے پروگراموں سے جوڑا جائے جو پائیدار ترقی اور سماجی شعبوں کے نتائج بہتر بنانے میں مدد دے سکیں۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کامیابی کا انحصار صرف قومی سطح کے عزم پر نہیں بلکہ ہر مہم میں بچوں تک ویکسین پہنچانے، رہ جانے والے علاقوں کی نشاندہی، وائرس کی نگرانی، صوبائی انتظامیہ کے تعاون اور عوامی اعتماد پر بھی ہے۔ اس لیے نیویارک میں ہونے والی یہ ملاقات ایک سیاسی اور شراکتی پیغام ضرور ہے، مگر بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے زمینی سطح پر مسلسل اور قابلِ پیمائش پیش رفت ضروری رہے گی۔

