اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اتوار کو ٹیلی فون پر گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے ساتھ جلد ملاقات پر اتفاق کیا۔ جیو نیوز کے مطابق گفتگو کی تفصیلات وزیراعظم آفس کے بیان میں سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر حالیہ حوثی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف علاقائی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی رسد پر بھی مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو بتایا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جاری رابطہ کاری کا بھی حوالہ دیا۔ وزیراعظم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
جیو نیوز کے مطابق محمد بن سلمان نے مشکل علاقائی صورتحال میں پاکستان کی حمایت اور امن و استحکام کے لیے اس کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ قائم رکھنے اور مناسب موقع پر جلد ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات کی حتمی تاریخ یا مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت ہوا جب سعودی عرب کے اہم توانائی انفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد خطے میں سلامتی اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بڑھے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا تھا اور اس سے قبل جازان میں حوثی حملے سے شہری املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ ان واقعات کی ذمہ داری اور فوجی ردعمل سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے اس گفتگو میں زور سفارتی کشیدگی کم کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ سیاسی یکجہتی پر رہا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون بھی علاقائی مباحث کا حصہ ہے، مگر اس مخصوص ٹیلی فونک رابطے میں کسی فوری فوجی کارروائی یا نئے دفاعی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ خبر کا بنیادی نکتہ سیاسی رابطہ، حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے یکجہتی اور دونوں رہنماؤں کے جلد ملاقات پر اتفاق تک محدود ہے۔




