نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات نیویارک میں جنرل اسمبلی کی سرگرمیوں کے دوران ہوئی۔ یہ ملاقات پاکستان اور ایران کے اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔
ملاقات سے قبل سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک متوازی سفارتی چینل پر کام کر رہا ہے۔ ڈان کے مطابق قطر نیویارک میں فوری شٹل سفارت کاری میں کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان تہران کے ساتھ اپنے رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شریک ہے۔
پاکستانی اور ایرانی قیادت کی ملاقات ایسے وقت ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ رابطوں کو جاری رکھنے کے لیے مختلف علاقائی ممالک سرگرم ہیں۔ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا اور مزید علاقائی کشیدگی کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں متعدد مواقع پر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی حمایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی اجلاس کے سلسلے میں نیویارک میں مختلف عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسی دورے میں انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی اور حکومت کے معاشی اصلاحاتی پروگرام سے متعلق گفتگو کی۔
ایرانی صدر سے ملاقات کا پس منظر خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کے باعث خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد، تجارتی روابط اور علاقائی سلامتی کے مشترکہ مسائل ہیں، جبکہ اسلام آباد سعودی عرب، قطر، امریکا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ بھی سفارتی رابطے رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں مختلف علاقائی فریقوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے کی کوششوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
ملاقات کے بارے میں دستیاب ابتدائی سرکاری اطلاع اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دونوں رہنما جنرل اسمبلی کے موقع پر ملے۔ بات چیت کے تمام نکات یا کسی ممکنہ عملی نتیجے کی تفصیلی سرکاری دستاویز فوری طور پر سامنے نہیں آئی، اس لیے ملاقات کو کسی حتمی امریکی-ایرانی معاہدے یا پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ مزید نتائج متعلقہ حکومتوں کے بعد کے بیانات سے واضح ہوں گے۔
