اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق وزیراعظم نے بدھ کو جاری پیغام میں سعودی قیادت اور عوام کو قومی دن کی مبارک باد دی اور حالیہ حوثی حملوں، بالخصوص مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ ڈرون حملے کی کوشش، کی مذمت کی۔

سعودی عرب ہر سال 23 ستمبر کو قومی دن مناتا ہے، جو 1932 میں شاہ عبدالعزیز کے ہاتھوں مملکت کے اتحاد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں سعودی عرب کی ترقی اور تبدیلی کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مملکت کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حرمین شریفین کی سلامتی کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہم قرار دیا۔

وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری سے تعبیر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کا بھی حوالہ دیا۔ ڈان کے مطابق انہوں نے ستمبر 2025 میں طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور رواں سال اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق پہلے معاہدے میں دونوں ملکوں نے کسی ایک کے خلاف حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھنے کا عزم ظاہر کیا تھا، جبکہ دوسرے معاہدے میں رکن ممالک کے باہمی دفاع کے اصول شامل ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی سعودی قیادت اور عوام کو قومی دن پر مبارک باد دی۔ ایوان صدر کے بیان کے مطابق صدر نے دونوں دفاعی معاہدوں کو پاکستان اور سعودی عرب کی دیرینہ شراکت داری کے اسٹریٹجک پہلو کو مضبوط کرنے والے اقدامات قرار دیا۔ انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے نام خطوط میں دونوں ممالک کے مذہبی، تاریخی اور سفارتی تعلقات کا ذکر کیا۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بحیرہ احمر میں بھی سکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے حمایت کے بیانات دیے ہیں۔ ان بیانات کا تعلق جاری علاقائی تنازع سے ہے، جس میں مختلف فریق اپنے اپنے دعوے اور مؤقف رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کے قومی دن کے پیغام کا بنیادی نکتہ دوطرفہ تعلقات اور سعودی سلامتی کے لیے پاکستانی حمایت کا اعادہ تھا۔ مستقبل میں دفاعی معاہدوں کے عملی اطلاق کا انحصار متعلقہ حالات، دونوں حکومتوں کے فیصلوں اور معاہدوں کی شرائط پر ہوگا؛ قومی دن کے پیغام میں کسی نئی فوجی کارروائی یا تعیناتی کا اعلان نہیں کیا گیا۔