نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب آئی ایم ایف کا مشن پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت اگلے جائزے کے لیے پاکستانی حکام سے بات چیت شروع کر چکا ہے۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے پاکستان کی معیشت کے لیے آئی ایم ایف کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت فنڈ کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کی ملکیت کا اعادہ کرتے ہوئے ساختی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور پائیدار و جامع نمو کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی بات کی۔
وزیراعظم کے مطابق علاقائی تنازع اور بیرونی مہنگائی کے دباؤ کے باوجود پاکستان میکرو اکنامک استحکام سے بحالی کے مرحلے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری بیان میں مالی نظم، بیرونی ذخائر، سرمایہ کاروں کے اعتماد، قومی ٹیرف نظام، مقامی محصولات میں اضافے اور نجکاری کے عمل کو اصلاحاتی ایجنڈے کے اہم حصوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومت نے کم آمدنی اور کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی اصلاحاتی عمل کے ساتھ جوڑنے کی یقین دہانی کرائی۔
کرسٹالینا جارجیوا نے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں پاکستان کی اصلاحات پر گفتگو کا ذکر کیا اور کہا کہ مضبوط عمل درآمد نے استحکام برقرار رکھنے، اعتماد بحال کرنے اور بین الاقوامی مارکیٹ تک دوبارہ رسائی میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات کا تسلسل معاشی نمو اور لوگوں کے معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے اہم ہوگا۔
پاکستان کا موجودہ EFF پروگرام ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا اور اس کی مدت 37 ماہ ہے۔ آئی ایم ایف کے شائع شدہ شیڈول کے مطابق ستمبر 2026 میں چوتھا جائزہ پروگرام کے اہم مراحل میں شامل ہے۔ پاکستان کے پاس ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کا الگ انتظام بھی موجود ہے، جس کا مقصد موسمیاتی اور طویل مدتی معاشی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت بہتر کرنا ہے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیرِ نجکاری محمد علی، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ موجودہ جائزے کے نتائج کا انحصار آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان تکنیکی و پالیسی مذاکرات پر ہوگا؛ کسی بھی اسٹاف لیول معاہدے کے بعد متعلقہ قسط کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا مرحلہ بھی درکار ہوگا۔
