اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے دوران 23 ستمبر کو نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ جیو نیوز نے دی نیوز کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے ذرائع کی بنیاد پر رپورٹ کیا ہے کہ یہ رابطہ جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ 23 ستمبر کی شام نیویارک کے لوٹے نیویارک پیلس ہوٹل میں جنرل اسمبلی میں شریک سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعزاز میں استقبالیہ عشائیہ دیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت موصول ہو چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجتماع کے دوران پاکستانی وزیراعظم کو امریکی صدر سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے بات چیت کا موقع ملے گا۔
وزیراعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں امریکا سمیت بڑی طاقتوں کے ساتھ روابط کے ساتھ ساتھ خطے کے اہم تنازعات اور بین الاقوامی قانونی معاملات کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور توقع ہے کہ وہ اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس عالمی رہنماؤں کو باضابطہ تقاریر کے علاوہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتوں کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے نیویارک میں وزیراعظم کی مصروفیات کو پاکستان کے امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ملاقات کے تفصیلی ایجنڈے یا ممکنہ مشترکہ اعلامیے سے متعلق سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
جیو نیوز کی رپورٹ میں ملاقات کی تاریخ اور مجوزہ سفارتی مصروفیات کو ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس لیے ملاقات کے حتمی شیڈول، دورانیے اور ایجنڈے کے بارے میں متعلقہ حکومتوں کی باضابطہ تفصیلات آنے پر مزید وضاحت متوقع ہے۔




