وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور پنجاب کے وزیر محنت و انسانی وسائل محمد منشا اللہ بٹ نے ڈسکہ روڈ سیالکوٹ پر واقع سوشل سکیورٹی ہسپتال کی بحالی اور اپ گریڈنگ کے منصوبے کا افتتاح کردیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کا مقصد شہر کے صنعتی کارکنوں اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ کے لیے جدید، قابل رسائی اور بہتر طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ افتتاح منصوبے کے آغاز کی تصدیق کرتا ہے؛ تمام کاموں کی تکمیل یا نئی سہولتوں کے فوری طور پر مکمل فعال ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تقریب میں سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان، پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے کمشنر، محکمہ محنت کے حکام، صنعت و مزدور برادری کے نمائندے اور دیگر متعلقہ افراد شریک ہوئے۔ مختلف اداروں کی شرکت اس لیے اہم ہے کہ سوشل سکیورٹی ہسپتال کی خدمات کا تعلق رجسٹرڈ صنعتی اداروں، کارکنوں، طبی عملے، صوبائی انتظامیہ اور مالی و انتظامی نظام سے ہوتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ کی بڑی آبادی کارخانوں اور صنعتی شعبے سے منسلک ہے، اس لیے کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے معیاری علاج کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اپ گریڈنگ کے بعد ہسپتال کو ایسا جدید طبی ادارہ بنانے کی کوشش کی جائے گی جو صنعتی مزدوروں اور ان کے زیر کفالت افراد کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرسکے۔ یہ منصوبے کے مقاصد ہیں؛ ان کے حصول کا قابلِ پیمائش جائزہ مکمل ہونے والی تعمیر، دستیاب بستروں، عملے، آلات اور مریضوں کو فراہم کردہ خدمات سے ہوگا۔
پنجاب کے وزیر محنت منشا اللہ بٹ نے ہسپتال کی اپ گریڈنگ کو مزدوروں کی فلاح سے متعلق صوبائی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سکیورٹی اداروں کو زیادہ مؤثر اور جدید بنانے اور فیکٹری کارکنوں کو بروقت علاج فراہم کرنے کے لیے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں منصوبے کی مجموعی لاگت، فنڈنگ کی تقسیم، تعمیراتی پیکیجز، بستروں کی موجودہ و مجوزہ تعداد یا تکمیل کی مقررہ تاریخ شامل نہیں، اس لیے منصوبے کے دائرہ کار کا مکمل مالی و تکنیکی جائزہ ابھی ممکن نہیں۔
سوشل سکیورٹی طبی نظام عام طور پر رجسٹرڈ کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کی سہولت دیتا ہے۔ عمارت کی مرمت کے ساتھ مؤثر اپ گریڈنگ کے لیے ڈاکٹر، نرسیں اور تکنیکی عملہ، تشخیصی آلات، ادویات، آپریشن تھیٹر، ہنگامی شعبہ، صفائی، مریض ریکارڈ اور ریفرل نظام بھی ضروری ہوتے ہیں۔ صرف افتتاحی تقریب یا تعمیراتی تبدیلی سے سروس کے معیار کا حتمی تعین نہیں ہوتا۔
تقریب میں سیالکوٹ کے وسیع تر صحت منصوبوں کا بھی ذکر ہوا۔ خواجہ آصف نے بتایا کہ شہر کے 500 بستروں والے ضلعی ہسپتال میں توسیع کی جا رہی ہے اور وہاں دل کی سرجری کی سہولت شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ گوجرانوالہ میں سرطان کے علاج کی سہولت بڑھانے پر بھی کام کی بات کی گئی۔ یہ الگ منصوبے ہیں اور سوشل سکیورٹی ہسپتال کے موجودہ افتتاح میں ان کی تکمیل کی تصدیق نہیں ہوئی۔
صنعتی شہر میں کارکنوں کے لیے مخصوص ہسپتال کی بہتری سے عمومی سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے اور پیشہ ورانہ بیماریوں، حادثات، زچہ و بچہ صحت اور معمول کے علاج تک رسائی بہتر بنانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم اس اثر کا انحصار کارکنوں کی رجسٹریشن، جغرافیائی رسائی، علاج کی فہرست، ادویات اور ماہر عملے کی مسلسل دستیابی پر ہوگا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ڈسکہ روڈ کے سوشل سکیورٹی ہسپتال کی بحالی و اپ گریڈنگ منصوبے کا افتتاح اور صنعتی کارکنوں و اہل خانہ کے لیے خدمات بہتر بنانے کا حکومتی ہدف ہے۔ منصوبے کی لاگت، تفصیلی سہولتیں، تکمیل کا وقت اور عملی کارکردگی آئندہ سرکاری معلومات اور زمینی نتائج سے واضح ہوگی۔




