خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے سرمایہ کاروں کے سوالات اور درخواستوں کو ایک مرکزی نظام کے ذریعے نمٹانے کے لیے ڈیجیٹل ٹکٹنگ ہب شروع کر دیا ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو جاری تفصیلات کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد سرمایہ کاروں کی درخواستوں کو زیادہ منظم، شفاف اور قابلِ نگرانی انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچانا اور ان پر فالو اپ کو بہتر بنانا ہے۔
نئے ہب میں سرمایہ کار اپنی انکوائری یا درخواست درج کر سکیں گے اور پھر اس کی پیش رفت کو مختلف مراحل میں ٹریک کر سکیں گے۔ ایس آئی ایف سی کے بیان کے مطابق درخواست موصول ہونے سے لے کر بعد کے رابطوں اور متعلقہ چینلز تک منتقلی کا ایک واضح ڈیجیٹل ورک فلو رکھا گیا ہے۔ اس سے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان کیس کی صورتحال دیکھنے اور ذمہ دار ادارے تک معاملہ پہنچانے میں سہولت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پلیٹ فارم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ سرمایہ کاری سے متعلق درخواستیں منتشر ای میلز، خط و کتابت یا الگ الگ رابطہ پوائنٹس کے بجائے ایک مربوط نظام میں لائی جائیں۔ اس طرح ہر درخواست کے اندراج، اسٹیٹس اور فالو اپ کا ریکارڈ برقرار رکھا جا سکے گا۔ ایس آئی ایف سی کے مطابق سرمایہ کار بھی اپنے جمع کرائے گئے کیس کی پیش رفت سے باخبر رہ سکیں گے، جس سے جواب دہی اور رابطے کی رفتار بہتر ہونے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایس آئی ایف سی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو مختلف شعبوں میں تقریباً 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پائپ لائن کے بارے میں بریف کیا ہے۔ بتائے گئے شعبوں میں صنعت، تیل و گیس، ریلوے، شاہراہیں، بجلی، ٹیلی کام، آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، سیاحت اور زراعت شامل ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں سے متعلق رکے یا تاخیر کا شکار منصوبوں کو بہتر بین الادارہ جاتی رابطے کے ذریعے آگے بڑھانے کی ہدایات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
ٹکٹنگ ہب کا آغاز بذاتِ خود کسی سرمایہ کاری منصوبے کی منظوری یا مالی بندوبست کی ضمانت نہیں، بلکہ یہ انتظامی سہولت کاری کا نظام ہے۔ اس کی عملی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے درخواستوں پر کتنی تیزی سے کارروائی کرتے ہیں، معلومات کتنی باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں اور پیچیدہ ریگولیٹری یا پالیسی مسائل کو حل کرنے کے لیے پلیٹ فارم کے ذریعے موصول کیسز کو کس طرح آگے بڑھایا جاتا ہے۔

