اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور عالمی بینک کے وفد نے پاکستان میں کاروباری ضوابط کو آسان بنانے اور نجی شعبے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ تعامل کو سہل کرنے کے لیے جاری اصلاحات پر بات چیت کی ہے۔ اجلاس میں آسان کاروبار فریم ورک، ریگولیٹری رجسٹری اور پاکستان بزنس پورٹل کو مرکزی موضوعات کے طور پر زیرِ غور لایا گیا۔
ایس آئی ایف سی سے جاری بیان کے مطابق آسان کاروبار فریم ورک کا مقصد مختلف کاروباری قوانین، قواعد اور منظوریوں کو زیادہ منظم بنانا اور ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کرنا ہے جن سے کاروبار شروع کرنے یا چلانے کے دوران غیر ضروری انتظامی بوجھ کم ہو۔ ریگولیٹری رجسٹری کے ذریعے کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو ان پر لاگو ہونے والی قانونی اور انتظامی شرائط کی زیادہ واضح اور قابلِ رسائی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان بزنس پورٹل کو ایک ایسے مربوط ڈیجیٹل انٹرفیس کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے جہاں کاروباری ادارے متعلقہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتی اداروں سے وابستہ اجازت ناموں، رجسٹریشن اور دیگر ضروری تقاضوں تک زیادہ آسان رسائی حاصل کر سکیں۔ عالمی بینک کے پاکستان ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کی دستاویزات میں بھی کاروباری رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کو نقشہ بند کرنے، انہیں سادہ بنانے اور ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کی سرگرمیاں شامل ہیں۔
اجلاس میں ایس آئی ایف سی نے اپنے 'ہول آف گورنمنٹ' طرزِ عمل پر زور دیا، جس کے تحت وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی اور شعبہ جاتی اداروں کو بھی اصلاحاتی عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق عالمی بینک کے وفد نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کاری اور مختلف اداروں کو ایک مشترکہ اصلاحاتی ایجنڈے پر لانے کی کوشش کو اہم قرار دیا اور کاروباری سہولت و ضابطہ جاتی بہتری کے لیے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں آگے بڑھ رہے ہیں جب پاکستان سرمایہ کاری میں اضافہ، نجی شعبے کی سرگرمی کو وسعت اور کاروباری لاگت و تاخیر میں کمی کو معاشی پالیسی کے اہم اہداف قرار دے رہا ہے۔ تاہم موجودہ اجلاس کسی نئے قرض یا مالی پیکیج کی منظوری کا اعلان نہیں تھا، بلکہ جاری اصلاحاتی پروگراموں اور تکنیکی تعاون کے بارے میں پیش رفت اور رابطہ کاری پر مرکوز تھا۔ ان منصوبوں کی عملی کامیابی کا انحصار وفاقی و صوبائی سطح پر قواعد کی اصلاح، ڈیجیٹل نظاموں کے نفاذ اور متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی پر ہوگا۔

