کراچی میں COP31 سے قبل منعقدہ ایک ورکشاپ میں سندھ حکومت نے بتایا ہے کہ صوبے نے 13 کاربن مارکیٹ منصوبوں کو حتمی شکل دے دی ہے جن میں مجموعی طور پر 330.13 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی گرین ہاؤس گیس اخراج کم کرنے کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔ صوبائی سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عقیلی کے مطابق ان منصوبوں کو صوبائی سطح پر منظوری کے بعد وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

منصوبوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے، توانائی کے شعبے میں اخراج میں کمی، زرعی فضلے سے بایوچار کی تیاری، میتھین میں کمی اور پائیدار جنگلات سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد کاربن مارکیٹ کے ذریعے ایسے منصوبوں کو سرمایہ کاری کے قابل بنانا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر مالی وسائل متحرک کرنا ہے۔ رپورٹ میں دی گئی 330.13 ملین ٹن کی مقدار منصوبوں کی ممکنہ اخراج کمی ہے، اسے اب تک حاصل شدہ کمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اس کے ساتھ چھ ترجیحی موسمیاتی منصوبوں کی لاگت 62.15 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ ان میں پانچ اضلاع میں بایوگیس اقدامات، زیریں سندھ میں تیرتی ہوئی زراعت، اینٹوں کے بھٹوں سے اخراج کم کرنے اور کلائمیٹ فنانس کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے شامل ہیں۔ حکام نے صاف پانی، زرعی زمین اور باغات کی بحالی، صنعتی آلودگی، برقی گاڑیوں کے فروغ اور کاربن منصوبوں میں شفافیت کو بھی اہم موضوعات قرار دیا۔

ورکشاپ کراچی سینٹر فار کلائمیٹ چینج اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے موسمیاتی وعدوں کو ایسے قابلِ عمل اور مالیاتی طور پر مضبوط منصوبوں میں تبدیل کیا جائے جو مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے قابل قبول ہوں۔ سندھ حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار منصوبہ جاتی تخمینے ہیں اور ان منصوبوں کی حقیقی اخراج کمی، مالی بندوبست اور نفاذ کے نتائج مستقبل کی پیش رفت اور آزادانہ پیمائش سے واضح ہوں گے۔