کراچی: سندھ حکومت اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کے اگلے مراحل تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور اے ڈی بی پاکستان ریزیڈنٹ مشن کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کے دوران زمین، رائٹ آف وے، ڈیزائن اور منصوبے کے ادارہ جاتی انتظامات پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے سی آر کے لیے زمین اور رائٹ آف وے سے متعلق باقی مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ کام کرے گی۔ اجلاس میں طے پایا کہ اگلے اقدامات میں ٹرمز آف ریفرنس کو حتمی شکل دینا، مطلوبہ زمین کی دستیابی کی تصدیق کرنا اور منصوبے کے ڈیزائن سے متعلق کام کو آگے بڑھانا شامل ہوگا۔

سندھ حکومت نے کئی برس سے تعطل کا شکار کے سی آر منصوبے کی بحالی کے لیے اے ڈی بی سے رابطہ کیا تھا۔ ڈان کے مطابق مئی میں اے ڈی بی کے ایک وفد نے سندھ کے چیف سیکریٹری کو بتایا تھا کہ بینک منصوبے کی بحالی کے لیے ایک ارب ڈالر تک فنانسنگ پر آمادہ ہے، جس میں ابتدائی 10 ملین ڈالر ڈیزائن ریویو، آپریشنل منصوبہ بندی، ادارہ جاتی انتظام اور فنانسنگ ماڈلز جیسے تیاری کے کاموں کے لیے شامل تھے۔

یہ رقم ابھی مکمل طور پر خرچ شدہ یا حتمی تعمیراتی سرمایہ کاری نہیں ہے؛ منصوبے کی عملی پیش رفت مزید تیاری، زمین کی دستیابی، ڈیزائن، منظوریوں اور فنانسنگ کے رسمی مراحل سے مشروط ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے ماضی میں تکنیکی، انتظامی اور مالی پیچیدگیوں کے باعث بار بار تاخیر کا شکار رہی ہے اور ایک مرحلے پر اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فریم ورک سے بھی جوڑا گیا تھا۔

اجلاس میں کے سی آر کے علاوہ سندھ میں صحت، تعلیم، ڈیجیٹل تبدیلی، دیہی پانی و صفائی اور شہری ٹرانسپورٹ سے متعلق دیگر ممکنہ اے ڈی بی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اے ڈی بی نے حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں پبلک ٹرانسپورٹ بہتر بنانے کے مجوزہ سسٹین ایبل موبیلٹی پروجیکٹ سندھ کے لیے تقریباً 300 ملین ڈالر مختص ہونے کی اطلاع دی۔

کے سی آر کی بحالی کراچی کی شہری نقل و حرکت کے لیے طویل عرصے سے زیر بحث منصوبہ ہے۔ موجودہ پیش رفت کو منصوبے کی تعمیر شروع ہونے کے بجائے تیاری اور فنانسنگ کے مراحل آگے بڑھنے کے طور پر دیکھنا درست ہوگا۔ اگلا اہم مرحلہ زمین اور رائٹ آف وے کی تصدیق، ڈیزائن کی تکمیل اور مالی و انتظامی شرائط کو حتمی شکل دینا ہے۔