کراچی: سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبے کی تقسیم کے خلاف ایوان کی منظور کردہ قرارداد وفاقی حکومت اور اعلیٰ ریاستی عہدیداروں تک باضابطہ طور پر پہنچانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹریٹ نے صدر مملکت اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹریز سمیت متعلقہ وفاقی حکام کو خطوط ارسال کیے ہیں تاکہ قرارداد میں درج صوبائی اسمبلی کے مؤقف سے انہیں آگاہ کیا جا سکے۔
قرارداد میں وفاقی حکومت، پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سندھ کے عوام اور ان کی منتخب صوبائی اسمبلی کی جمہوری رائے کا احترام کریں۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں انتظامی اکائیوں اور صوبائی حدود سے متعلق سیاسی بحث دوبارہ نمایاں ہوئی ہے۔ قرارداد کا وفاق کو بھیجا جانا صوبائی اسمبلی کے سیاسی اور آئینی مؤقف کی ترسیل ہے؛ اس سے بذات خود آئینی حدود یا انتظامی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
سندھ میں صوبے کی تقسیم کا معاملہ طویل عرصے سے حساس سیاسی موضوع رہا ہے اور مختلف جماعتیں اس بارے میں مختلف مؤقف رکھتی رہی ہیں۔ موجودہ قرارداد سندھ اسمبلی کے اجتماعی فیصلے کی نمائندگی کرتی ہے، تاہم کسی صوبے کی حدود میں آئینی تبدیلی کے لیے پاکستان کے آئینی طریقہ کار اور متعلقہ قانون ساز اداروں کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس لیے قرارداد کو کسی حتمی قانونی تبدیلی کے بجائے ایک واضح سیاسی و پارلیمانی موقف سمجھنا ضروری ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے خطوط بھیجنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قرارداد متعلقہ وفاقی عہدیداروں اور اداروں کے ریکارڈ میں آئے اور ایوان کی منظور شدہ رائے سے انہیں باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔ دستیاب معلومات میں وفاقی حکومت کی جانب سے قرارداد پر کسی نئے عملی یا قانونی فیصلے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ صوبائی خودمختاری، وفاقی ڈھانچے اور انتظامی اصلاحات سے متعلق مباحث میں منتخب صوبائی اسمبلیوں کی قراردادیں سیاسی وزن رکھتی ہیں۔ آئندہ مرحلے میں وفاقی حکومت یا پارلیمان کی جانب سے کسی جواب، بحث یا پالیسی مؤقف کی صورت میں یہ واضح ہوگا کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کے بعد معاملہ کس سمت بڑھتا ہے۔




