سندھ اسمبلی نے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق قرارداد جماعت اسلامی کے ایک رکن نے پیش کی اور اس میں بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے تناظر میں مرکز سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد کی منظوری ایسے وقت ہوئی ہے جب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے نقل و حمل، کاروباری لاگت اور گھریلو بجٹ پر دباؤ کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کے لیے سیاسی مطالبہ ہے؛ یہ بذات خود وفاقی ٹیکس یا لیوی کو ختم نہیں کرتی، کیونکہ پیٹرولیم لیوی سے متعلق پالیسی اور محصولات کا اختیار وفاقی سطح پر استعمال ہوتا ہے۔
ڈان کے مطابق ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے 'سندھو دیش' کے معاملے پر شور شرابا بھی ہوا، تاہم پیٹرولیم لیوی سے متعلق قرارداد کی منظوری اپنی جگہ ایک الگ پارلیمانی کارروائی تھی۔ قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے بڑھتی قیمتوں کے معاشی اثرات پر وفاقی حکومت کو اپنا اجتماعی موقف پہنچایا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں مہنگائی، مال برداری اور شہری ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر براہ راست اور بالواسطہ اثر ڈالتی ہیں۔ لیوی کے خاتمے کا مطالبہ اسی لیے صرف پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت تک محدود نہیں بلکہ کاروباری اور صارفین کی مجموعی لاگت سے بھی جڑا ہے۔ تاہم لیوی کم یا ختم کرنے کی صورت میں وفاقی محصولات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور متبادل مالی انتظامات کا فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہوگا۔
اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ وفاقی حکومت سندھ اسمبلی کی قرارداد پر کیا ردعمل دیتی ہے۔ قرارداد ایک واضح سیاسی سفارش ہے، لیکن عملی تبدیلی کے لیے وفاقی سطح پر پالیسی فیصلہ اور متعلقہ نوٹیفکیشن درکار ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں وفاق کی جانب سے قرارداد کے جواب میں کسی فوری فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔




