کراچی: سندھ اسمبلی نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی جس میں صوبے کی تقسیم، اس کی علاقائی حدود تبدیل کرنے یا نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے سے متعلق کسی بھی تجویز، منصوبے یا آئینی بندوبست کو مسترد کیا گیا۔ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار احمد کھوڑو نے پیش کی اور ایوان میں موجود ارکان نے اس کی حمایت کی، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
قرارداد میں سندھ کی موجودہ آئینی اور جغرافیائی حیثیت کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ صوبائی حکومت کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بحث کے دوران صوبے کی تاریخی اور آئینی شناخت کا دفاع کیا اور کہا کہ سندھ کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ انتظامی اور بلدیاتی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے صوبے کی تقسیم کے موضوع کو سیاسی انداز میں استعمال کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بعض ارکان نے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے، مؤثر بلدیاتی نظام اور مقامی خودمختاری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان مؤقفوں سے واضح ہوا کہ تنازع صرف صوبائی حدود تک محدود نہیں بلکہ شہری انتظام، وسائل اور مقامی حکومت کے اختیارات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
قرارداد کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے بارے میں سیاسی بحث دوبارہ تیز ہوئی ہے۔ سندھ میں اس موضوع کی حساسیت تاریخی طور پر زیادہ رہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں کی نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور بلدیاتی اختیارات پر مختلف مؤقف رکھتی ہیں۔
ایوان کی کارروائی کے نتیجے میں صوبائی اسمبلی نے باضابطہ طور پر اپنی سیاسی پوزیشن ریکارڈ پر رکھ دی ہے، تاہم قرارداد بذاتِ خود ملک گیر آئینی بحث کا حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ کسی بھی صوبے کی حدود میں قانونی تبدیلی کے لیے آئین میں مقررہ پارلیمانی اور صوبائی مراحل پورے کرنا لازم ہوں گے۔




