کراچی: سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم، نئی صوبائی حد بندی یا ایسی انتظامی اکائیوں کے قیام کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار احمد کھوڑو نے پیش کی اور ایوان میں موجود ارکان نے اس کی منظوری دی۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کارروائی میں شریک نہیں تھے اور انہوں نے بائیکاٹ کیا۔

قرارداد میں سندھ کی جغرافیائی وحدت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے صوبے کی موجودہ حدود میں تبدیلی کی تجاویز کو مسترد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں موقف اختیار کیا کہ صوبے کی جغرافیائی وحدت پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ یہ قرارداد ایسے سیاسی ماحول میں منظور ہوئی ہے جب ملک میں نئے صوبوں، انتظامی اکائیوں اور مقامی حکمرانی کے ڈھانچے سے متعلق مختلف تجاویز وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔

آئینی طور پر صوبائی حدود میں تبدیلی محض سیاسی اعلان سے نہیں ہو سکتی اور اس کے لیے آئین میں مقررہ طریقہ کار اور متعلقہ قانون ساز اداروں کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد ایک سیاسی اور پارلیمانی موقف کی عکاسی کرتی ہے؛ اسے بذات خود کسی زیر التوا آئینی ترمیم کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ قرارداد کے حامیوں نے اسے صوبے کی تاریخی اور انتظامی وحدت کے دفاع سے جوڑا، جبکہ بائیکاٹ کے باعث ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے منظوری کے مرحلے میں ووٹ نہیں دیا۔

اس پیش رفت سے سندھ کی سیاست میں صوبائی وحدت اور انتظامی ڈھانچے کی بحث دوبارہ نمایاں ہوئی ہے۔ مستقبل میں اگر صوبائی حدود یا نئی اکائیوں سے متعلق کوئی باقاعدہ آئینی تجویز سامنے آتی ہے تو اسے آئین کے مقررہ تقاضوں سے گزرنا ہوگا۔ موجودہ قرارداد کا فوری اثر یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں موجود ارکان نے واضح طور پر تقسیم کے خلاف اپنا اجتماعی پارلیمانی موقف ریکارڈ کرا دیا ہے۔