کراچی: سندھ اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور ایندھن پر عائد اضافی مالی بوجھ میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قرارداد جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے پیش کی، جبکہ صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے ایوان کو بتایا کہ پٹرولیم لیوی وفاقی معاملہ ہے اور صوبائی حکومت اسے خود ختم نہیں کر سکتی۔
قرارداد کو بعد ازاں ووٹنگ کیلئے پیش کیا گیا اور ایوان نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ متن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پٹرول کی قیمت میں بنیادی لاگت اور کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن سمیت متعدد اضافی اجزا شامل ہیں، جن سے صارفین پر مالی دباؤ بڑھتا ہے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے لیوی اور دیگر متعلقہ ڈیوٹیز ختم یا کم کرکے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں پیش کیے گئے اعداد کے مطابق پٹرول کی کسٹمز ڈیوٹی سمیت قیمت 238.70 روپے بتائی گئی، جبکہ اس کے علاوہ 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ لیوی اور 25.3 روپے فی لیٹر آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن کا حوالہ دیا گیا۔ یہ اعداد قرارداد کے متن کا حصہ ہیں اور ایوان کے سیاسی مطالبے کی بنیاد کے طور پر پیش کیے گئے۔
صوبائی وزیر قانون نے واضح کیا کہ حتمی اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، اس لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد خود بخود پٹرولیم لیوی میں قانونی تبدیلی نہیں کرتی۔ اس کا عملی اثر وفاق کو ایک سیاسی اور پارلیمانی مطالبہ پہنچانے کی صورت میں ہے۔ کسی بھی ٹیکس یا لیوی میں حقیقی تبدیلی کیلئے وفاقی سطح پر متعلقہ قانونی یا انتظامی فیصلہ درکار ہوگا۔
اسمبلی اجلاس کے دوران دیگر سیاسی معاملات پر بھی شور شرابہ ہوا، تاہم پٹرولیم لیوی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ ملک میں ایندھن کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم بھی جاری ہے، جس کے تناظر میں یہ قرارداد سامنے آئی۔ اس مرحلے پر وفاقی حکومت کی جانب سے اس مخصوص قرارداد کے جواب میں پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا، اس لیے خبر کا مصدقہ نتیجہ سندھ اسمبلی کا مطالبہ اور قرارداد کی منظوری ہے، نہ کہ لیوی کا خاتمہ۔




