کراچی: سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم، موجودہ علاقائی حدود میں تبدیلی یا سندھ کے کسی حصے کو نئے صوبے یا الگ انتظامی بندوبست میں شامل کرنے کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار احمد کھوڑو نے 3 ستمبر 2026 کے اجلاس میں پیش کی اور ایوان میں موجود ارکان نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا۔ اپوزیشن ارکان ووٹنگ سے قبل واک آؤٹ کر گئے تھے، اس لیے متفقہ منظوری سے مراد اجلاس میں موجود اراکین کا اتفاق ہے، پوری اسمبلی کی حاضری نہیں۔

قرارداد میں سندھ کو تاریخی، تہذیبی اور آئینی وحدت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ صوبہ اپنی موجودہ جغرافیائی و آئینی شناخت کے ساتھ پاکستان میں شامل ہوا تھا۔ متن میں سندھ اسمبلی کے قیامِ پاکستان سے متعلق تاریخی کردار کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں 3 مارچ 1943 کی قرارداد اور 26 جون 1947 کے خصوصی اجلاس کا فیصلہ شامل ہے۔

ایوان نے کسی ضلع، ڈویژن، خطے یا علاقے کو سندھ سے الگ کرنے، وفاقی انتظام میں دینے یا صوبے کی حدود میں تبدیلی کے کسی منصوبے کو مسترد کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ کا ہر موجودہ ضلع اور خطہ صوبے کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور اسمبلی آئینی طریقے سے اس وحدت کا تحفظ کرے گی۔

قرارداد نے آئین کے آرٹیکل 239(4) کا حوالہ دیا، جس کے تحت کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیم صدر کی منظوری کے لیے اس وقت تک پیش نہیں کی جا سکتی جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹ سے منظور نہ کرے۔ موجودہ قرارداد بذاتِ خود آئینی ترمیم نہیں، بلکہ اسمبلی کا سیاسی و پارلیمانی مؤقف ہے۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی کے 105 ارکان موجود تھے اور قرارداد منظور ہونے کے بعد انہوں نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر صوبے کی وحدت کے حق میں نعرے اور بینرز دکھائے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطاب میں کہا کہ صوبے کی حدود سے متعلق فیصلہ سندھ اسمبلی اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے، ٹیلی ویژن مباحث یا سیاسی جلسوں میں نہیں۔

پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کی صدر فریال تالپور نے بھی کسی تقسیم پر سمجھوتہ نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔ نثار کھوڑو نے اپوزیشن کے واک آؤٹ پر تنقید کی۔ ان بیانات میں سخت سیاسی زبان استعمال ہوئی، جسے متعلقہ رہنماؤں کے مؤقف کے طور پر دیکھا جائے گا، کسی دوسرے فریق کے ارادوں کے ثابت شدہ تعین کے طور پر نہیں۔

یہ قرارداد ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں سے متعلق دوبارہ شروع ہونے والی بحث کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اضافی انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی ضرورت کا خیال پیش کیا تھا، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے بعض رہنماؤں نے مزید انتظامی تقسیم کو حکمرانی، آبادی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے جوڑا۔ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے صوبے کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔

قرارداد میں وفاقی حکومت، پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ سندھ اسمبلی کے اظہارِ رائے اور صوبے کی آئینی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ وفاقی ڈھانچے میں کسی تبدیلی پر بحث آئین، جمہوری رضامندی اور متعلقہ آبادی کی خواہش کے مطابق ہونی چاہیے۔

فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کی منظوری ہے۔ اس سے کوئی نئی انتظامی اکائی قانونی طور پر قائم یا ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی آئین میں ترمیم ہوئی ہے۔ نئے صوبے یا علاقائی حدود میں تبدیلی کے لیے الگ آئینی و پارلیمانی عمل درکار ہوگا، جس میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بنیادی شرط ہے۔