اسلام آباد: قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے سندھ اسمبلی میں کرسچن فیملی لاز بل متعارف کرائے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مسیحی خواتین، بچیوں اور بچوں کے قانونی تحفظ، انصاف تک رسائی اور خاندانی معاملات میں مؤثر قانونی ضمانتوں کو مضبوط بنانے کی سمت اہم پیش رفت ہے۔ کمیشن نے اس قانون سازی کے عمل میں ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید اور دیگر ارکانِ اسمبلی کے کردار کو بھی سراہا ہے۔

این سی ایس ڈبلیو کے مطابق مسیحی خاندانی معاملات کے لیے ایک جامع اور حقوق پر مبنی قانونی فریم ورک کی ضرورت برقرار ہے۔ کمیشن نے کہا کہ وہ گزشتہ تین برس سے پاکستان بھر میں شراکت دار تنظیموں کے ساتھ مل کر مسیحی خاندانی قوانین میں اصلاحات کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹیرینز، متعلقہ سرکاری و قانونی اداروں، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی، مذہبی نمائندوں اور مسیحی برادری کے افراد کے ساتھ مشاورت کی گئی تاکہ موجودہ قوانین میں موجود خلا کی نشاندہی کی جا سکے اور خاندانوں، بالخصوص خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اصلاحات آگے بڑھائی جا سکیں۔

کمیشن نے واضح کیا کہ موجودہ مسیحی خاندانی قوانین کا مسلسل جائزہ ضروری ہے تاکہ ظلم و زیادتی، صنفی تشدد، ترکِ تعلق، شادی، طلاق، نان و نفقہ، بچوں کی تحویل اور سرپرستی جیسے معاملات کو بہتر قانونی طریقے سے نمٹایا جا سکے۔ این سی ایس ڈبلیو نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات میں خواتین اور بچوں کے وقار، حقوق اور بہترین مفاد کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔

کمیشن کے بیان کے مطابق سندھ میں شروع ہونے والا قانون سازی کا عمل ایک زیادہ منصفانہ اور مؤثر قانونی نظام تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ این سی ایس ڈبلیو نے دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کی تعمیری قانون سازی اور مشاورت کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات بل کے تعارف اور کمیشن کے ردعمل سے متعلق ہیں؛ بل کی حتمی منظوری یا نفاذ کو اس مرحلے پر مکمل شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ قانون سازی کے اگلے مراحل سندھ اسمبلی کی کارروائی اور متعلقہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھیں گے۔