سندھ میں ریبیز سے ہونے والی مسلسل اموات کے بعد صوبائی حکام نے چار ڈاکٹروں کو معطل کر دیا ہے اور متعدد ہسپتالوں سے جواب طلب کیا ہے۔ ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق تین ہفتوں کے دوران ریبیز سے اموات کے ایک سلسلے کے بعد انتظامی کارروائی کی گئی، جبکہ سات ہسپتالوں کے سربراہان سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ کے چیف سیکریٹری نے صوبے میں قائم 278 اینٹی ریبیز ویکسین، یعنی اے آر وی، یونٹس کے آڈٹ کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ مریضوں اور ویکسین سے متعلق نگرانی بہتر بنانے کے لیے ڈیش بورڈ ٹریکنگ اور سخت پروٹوکول نافذ کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہوں گے کہ ویکسین، امیونوگلوبیولن، عملے اور ریفرل نظام کی دستیابی کہاں کمزور ہے۔
چار ڈاکٹروں کی معطلی ایک انتظامی اقدام ہے اور اسے کسی حتمی پیشہ ورانہ غفلت یا قانونی ذمہ داری کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور وضاحتوں کے بعد ہی انفرادی ذمہ داری کا تعین ہو سکے گا۔ اسی طرح ہسپتال سربراہان سے وضاحت طلب کرنا بھی تفتیشی اور احتسابی عمل کا حصہ ہے، نہ کہ بذات خود جرم یا غفلت کا حتمی ثبوت۔
ریبیز ایک جان لیوا مگر بروقت طبی مداخلت سے قابلِ انسداد بیماری ہے۔ کتے یا دوسرے مشتبہ جانور کے کاٹنے کے بعد زخم کی فوری صفائی اور طبی مشورے کے تحت بعد از نمائش ویکسینیشن انتہائی اہم ہوتی ہے۔ صوبائی سطح پر اے آر وی یونٹس کا مؤثر نیٹ ورک اسی لیے ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کو تاخیر کے بغیر مناسب علاج میسر آ سکے۔
حکام کے نئے احکامات کا اصل امتحان ان کے نفاذ میں ہوگا۔ 278 یونٹس کے آڈٹ سے اگر ادویات، عملے یا ریکارڈنگ میں خامیاں سامنے آتی ہیں تو صوبائی محکمہ صحت کو ان کی اصلاح کے لیے قابلِ پیمائش اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئندہ رپورٹنگ میں اموات کی طبی تفصیل، علاج تک رسائی میں تاخیر اور متعلقہ ہسپتالوں کے جوابات سے صورتحال زیادہ واضح ہو سکے گی۔




