سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کی رہائش سے متعلق معاملے میں قرار دیا ہے کہ ان کا استحقاق صدر پنشن ایکٹ 1974 کے تحت طے ہوگا۔ عدالت کے مطابق متعلقہ قانون سابق صدر کو تاحیات مفت سرکاری رہائش یا قانون کے مطابق مقررہ کرائے کے متبادل کا حق دیتا ہے۔ فیصلے میں اس قانونی حق کو انتظامی صوابدید کے بجائے موجودہ قانون کے دائرے میں دیکھا گیا۔
مقدمے میں بنیادی سوال یہ تھا کہ سابق صدر کو عہدہ چھوڑنے کے بعد رہائش کی کون سی سہولت دستیاب ہے اور متعلقہ سرکاری اداروں پر اس سلسلے میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے قانون کی دفعات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ عارف علوی کا معاملہ بھی اسی قانونی فریم ورک کے تحت آتا ہے جو سابق صدور کی پنشن اور مراعات سے متعلق ہے۔
عدالتی حکم کا تعلق کسی نئی سیاسی مراعت کے اعلان سے نہیں بلکہ موجودہ قانون کی تشریح اور اس کے اطلاق سے ہے۔ اس لیے فیصلے کا عملی نفاذ متعلقہ حکام کو قانون میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری رہائش فراہم نہیں کی جاتی تو متبادل کرائے کی ادائیگی بھی اسی قانونی معیار کے تحت طے ہوگی جس کا حوالہ عدالت نے دیا ہے۔
عارف علوی 2018 سے 2024 تک پاکستان کے صدر رہے۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد سابق آئینی عہدیداروں کو ملنے والی مراعات اور ان کے قانونی دائرہ کار کے معاملات مختلف اوقات میں عدالتی اور انتظامی سطح پر زیر بحث آتے رہے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس مخصوص تنازع میں متعلقہ قانون کی تشریح فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی مزید انتظامی اقدام یا ممکنہ قانونی چیلنج کی صورت میں معاملہ اگلے قانونی مرحلے میں جاسکتا ہے، تاہم موجودہ حکم میں عدالت نے سابق صدر کے رہائشی حق کی بنیاد صدر پنشن ایکٹ 1974 کو قرار دیا ہے۔
