سندھ حکومت نے پیپلز بس سروس کا دائرہ صوبے کے مزید شہروں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اجلاس میں موجودہ بس آپریشنز کا جائزہ لیا اور نئے روٹس کے آغاز کے لیے تمام انتظامات مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قمبر شہدادکوٹ سے لاڑکانہ تک پیپلز بس سروس جلد شروع کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے بسیں لاڑکانہ پہنچ چکی ہیں۔ تاہم دستیاب بیان میں روٹ کے باقاعدہ افتتاح کی تاریخ، روزانہ سفروں کی تعداد، بسوں کی مجموعی گنتی، اسٹاپس، اوقاتِ کار یا کرایے کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے کو تیاری اور آئندہ آغاز کا فیصلہ سمجھا جائے گا، فعال سروس کا حتمی افتتاح نہیں۔

اجلاس میں ڈبل ڈیکر بسوں کی آمد اور آپریشن سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئے۔ حکام نے بتایا کہ ضروری انتظامی اور عملی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بسیں کس شہر یا روٹ پر چلیں گی، ان کی تعداد کتنی ہوگی اور سروس کب شروع ہوگی۔ ان تفصیلات کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ یا سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے آئندہ باضابطہ اعلان کی ضرورت ہوگی۔

شرجیل میمن نے الیکٹرک وہیکل ٹیکسی سروس کے آپریشنل ماڈل اور اسے شروع کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں ای وی ٹیکسی کے ملکیتی ڈھانچے، کرایے، ڈرائیور اہلیت، گاڑیوں کی تعداد یا چارجنگ انفرااسٹرکچر کی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت منصوبہ بندی اور عملی ماڈل پر غور تک محدود ہے۔

پنک اسکوٹیز پروگرام بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔ صوبائی وزیر نے اسے خواتین کی نقل و حرکت اور ضروری سرگرمیوں تک رسائی بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا۔ تاہم اجلاس کی رپورٹ میں اس مرحلے پر مستفید خواتین کی تعداد، تقسیم کا نیا شیڈول یا اہلیت کے تازہ قواعد بیان نہیں کیے گئے۔

اجلاس میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبوں پر کام کی رفتار بڑھانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جاسکے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز بس سروس کی جغرافیائی توسیع، برقی ٹرانسپورٹ اور بڑے بی آر ٹی منصوبے صوبائی حکومت کی جامع پبلک ٹرانسپورٹ پالیسی کا حصہ ہیں۔ یہ حکومت کا پالیسی مؤقف ہے، جبکہ ہر منصوبے کی عملی کامیابی بجٹ، گاڑیوں کی دستیابی، انفرااسٹرکچر اور باقاعدہ آپریشن سے جانچی جائے گی۔

اجلاس میں ٹرانسپورٹ سیکریٹری اسد ضامن، ٹرانس کراچی کے چیف ایگزیکٹو زبیر چنا، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر بہزاد میمن اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ مختلف اداروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نئے روٹس اور متعلقہ منصوبوں کے لیے انتظامی رابطہ جاری ہے، مگر اجلاس کی شرکت خود کسی منصوبے کی مالی یا تکنیکی تکمیل کا ثبوت نہیں۔

نئے بین الاضلاعی روٹ سے قمبر شہدادکوٹ اور لاڑکانہ کے درمیان عوامی سفر کے مزید متبادل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کا حقیقی فائدہ سروس کی باقاعدگی، کرایے کی استطاعت، روٹ کے احاطے، خواتین اور معذور مسافروں کی رسائی، اور گاڑیوں کی دیکھ بھال پر منحصر ہوگا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے توسیع کا فیصلہ کیا، متعلقہ بسیں لاڑکانہ پہنچیں اور محکمے کو نئے روٹ کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ افتتاحی تاریخ اور مکمل آپریشنل تفصیل سامنے آنے تک اسے اعلان شدہ توسیعی مرحلہ ہی سمجھا جائے گا۔