کراچی: سندھ میں جاری ہفتہ بھر کی انسداد پولیو مہم کے پہلے روز 30 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) سندھ کے مطابق یہ تعداد مہم کے تقریباً ایک کروڑ بچوں کے مجموعی ہدف کا 30 فیصد بنتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے ای او سی کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ مہم 21 ستمبر کو شروع ہوئی اور 27 ستمبر تک صوبے کے 30 اضلاع میں جاری رہے گی۔
ای او سی کے مطابق مہم کے 23 اضلاع میں مکمل کوریج کی جا رہی ہے، جہاں تقریباً 80 لاکھ بچوں تک پہنچنے کا ہدف ہے۔ مزید سات اضلاع میں جزوی کوریج کے تحت تقریباً 21 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مہم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو گھر گھر جا کر قطرے پلانے کے لیے پولیو ورکرز، ویکسینیٹرز اور نگران عملے کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 80 ہزار سے زیادہ تربیت یافتہ کارکن، ویکسینیٹرز اور سپروائزر اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ ٹیمیں صوبے بھر میں گھر گھر جا کر بچوں تک پہنچ رہی ہیں، جبکہ ایسے گھرانوں کے لیے بھی انتظام رکھا گیا ہے جو ٹیم کی آمد کے وقت گھر پر موجود نہ ہوں۔ ای او سی نے شہریوں کو بتایا ہے کہ معلومات، رہنمائی یا رہ جانے والے بچے کی ویکسینیشن کے لیے ہیلتھ پروٹیکشن ہیلپ لائن 1166 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ای او سی سندھ کے کوآرڈینیٹر شہریار گل میمن نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر ہر اہل بچے کو ویکسین ضرور دلوائیں۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو اعصابی نظام کو متاثر کر کے مستقل معذوری کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ویکسینیشن کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ اسی لیے گھر گھر مہمات میں بار بار ویکسین دینا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔
پہلے روز 30 فیصد ہدف حاصل ہونا مہم کی ابتدائی رفتار کو ظاہر کرتا ہے، لیکن مجموعی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ سات روز میں کتنے بچے مکمل طور پر کور ہوتے ہیں اور کتنے بچے مختلف وجوہات سے رہ جاتے ہیں۔ انسداد پولیو پروگرام کے لیے خاص طور پر ان علاقوں میں دوبارہ رسائی اہم ہوتی ہے جہاں خاندان گھر پر نہ ملیں، ویکسین سے انکار ہو یا سکیورٹی اور نقل و حرکت کی رکاوٹیں موجود ہوں۔
ای او سی کے موجودہ بیان میں پہلے دن کی مجموعی کوریج کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ ضلع وار تفصیلی کارکردگی یا رہ جانے والے بچوں کی مکمل تعداد فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے مہم کی حتمی کامیابی کا جائزہ 27 ستمبر کے بعد جاری ہونے والے مکمل اعداد و شمار سے زیادہ واضح ہوگا۔

