کراچی: سندھ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر حکام نے کراچی میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈان کی 25 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں یہ پابندی 30 ستمبر تک برقرار رہے گی، جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں بھی دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو 29 ستمبر تک نافذ رہیں گی۔
دفعہ 144 انتظامیہ کو مخصوص حالات میں اجتماعات اور بعض سرگرمیوں کو محدود کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ موجودہ حکم کے تحت کراچی میں پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور کسی ممکنہ کشیدگی یا بدنظمی کو روکنا بتایا گیا ہے۔ حکم کا اطلاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی منصوبوں کے باعث سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پابندی صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ سندھ کے دو دیگر بڑے شہروں حیدرآباد اور سکھر میں بھی اجتماعات پر قدغن لگائی گئی ہے۔ تاہم ان دونوں شہروں کے لیے پابندی کی مدت کراچی سے ایک روز پہلے، یعنی 29 ستمبر تک بتائی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام بنیادی طور پر ایک انتظامی اور احتیاطی فیصلہ ہے؛ اسے کسی مخصوص واقعے کے حتمی نتیجے یا کسی فرد یا جماعت کے خلاف عدالتی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ شہریوں اور سیاسی و سماجی تنظیموں کے لیے ضروری ہوگا کہ مقررہ مدت میں اجتماعات یا سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت ضلعی انتظامیہ کے احکامات کو مدنظر رکھیں۔ پابندی کی مدت میں کسی تبدیلی، توسیع یا قبل از وقت خاتمے کا انحصار حکومت سندھ اور متعلقہ انتظامیہ کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔
